گلگت بلتستان: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اب تک 24 میں سے 19 نشستوں کے سرکاری اور غیر سرکاری نتائج سامنے آچکے ہیں، جن کے مطابق پیپلز پارٹی نے 9 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن 3 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے، جبکہ 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں نے میدان مارا۔ ایک نشست مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار کے حصے میں آئی ہے۔
پیپلز پارٹی کو واضح برتری
گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مختلف حلقوں میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی خطے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت بن گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی یہ برتری گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
مختلف حلقوں کے نتائج
جی بی 5 نگر 2 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار مراد 2 ہزار 628 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار ریاض اکبر 2 ہزار 394 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 6 ہنزہ کے سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 6 ہزار 390 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے کرنل ریٹائرڈ امتیاز الحق 5 ہزار 417 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 7 اسکردو ون کے سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی شاہ 4 ہزار 320 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آئی پی پی کے راجا جلاس 3 ہزار 891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 8 اسکردو 2 کے سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے کاظم میثم 10 ہزار 658 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10 ہزار 65 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 9 اسکردو 3 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے فدا ناشاد 6 ہزار 314 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے وزیر محمد سلیم 6 ہزار 106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 10 اسکردو 4 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ناصر علی مقپون 6 ہزار 639 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ آئی پی پی کے محمد خان وزیر 4 ہزار 878 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
پیپلز پارٹی کی مزید کامیابیاں
جی بی 11 کھرمنگ کے سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے اقبال حسین 5 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ ن کے سید محسن رضوی 4 ہزار 589 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 12 شگر کے سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 12 ہزار 944 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ آئی ٹی پی کے راجا اعظم 8 ہزار 682 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے طاہر شگری 6 ہزار 98 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 19 غذر 1 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 9 ہزار 613 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار نواز ناجی 8 ہزار 210 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ مسلم لیگ ن کے ظفر محمد شادم خیل 6 ہزار 545 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
مسلم لیگ ن اور آزاد امیدواروں کی کامیابی
جی بی 18 دیامر 4 کے سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے کفایت الرحمان 5 ہزار 521 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 4 ہزار 916 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 20 غذر 2 کے سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے عبدالجہان 6 ہزار 917 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے نذیر احمد 6 ہزار 758 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی اے 21 غذر 3 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی عامر 7 ہزار 500 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ مسلم لیگ ن کے غلام محمد 4 ہزار 300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 22 گانچھے کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے ابراہیم ثنائی 12 ہزار 48 ووٹ لے کر آگے رہے۔ پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 9 ہزار 285 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 23 گانچھے 2 کے سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 12 ہزار 117 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ آزاد امیدوار حاجی عبدالحمید 4 ہزار 197 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
جی بی 24 گانچھے 3 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار ڈاکٹر اسد شفیق 8 ہزار 92 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے انجینئر محمد اسماعیل 5 ہزار 72 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حکومت سازی کے لیے 17 نشستیں درکار
گلگت بلتستان اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے 24 نشستوں پر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ 6 نشستیں خواتین اور 3 نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔
گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوگی۔
ووٹرز کی تعداد
گلگت بلتستان میں 9 لاکھ 63 ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں تقریباً 5 لاکھ 6 ہزار مرد ووٹرز اور 4 لاکھ 56 ہزار خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد سیاسی جماعتوں نے حکومت سازی کے لیے رابطوں اور مشاورت کا عمل شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔


