ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے سرکاری ہسپتالوں میں او پی ڈیز اور جنرل ڈیوٹی سے بائیکاٹ کیا گیا.
بائیکاٹ کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب حملہ دراصل بلوچستان کے نظام صحت پر حملہ ہے۔
صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔
حکومت بلوچستان متنازعہ افسر کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کرنے والے 30 سے زائد ڈاکٹرز کو معطل کر دیا ہے۔
آج گرینڈ ڈاکٹرز کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں صوبے بھر سے ڈاکٹرز شرکت کریں گے۔
ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ کانفرنس میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔
کل (30 جون) کو سول ہسپتال کوئٹہ سے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔
ینگ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا کہ سیکرٹری ہیلتھ اور ایم ایس سول ہسپتال کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔


