پشاور: بڈھہ بیرہ کے علاقے میں ایک لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے تین نامزد ملزمان کے ساتھ ساتھ جرگے کے ان ارکان کو بھی گرفتار کر لیا ہے جنہوں نے معاملے کے تصفیے میں کردار ادا کیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ چند ماہ قبل پیش آیا تھا، جب متاثرہ لڑکی کے والد نے تین افراد پر اپنی بیٹی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ بعد ازاں معاملہ جرگے میں لے جایا گیا، جہاں فیصلہ کیا گیا کہ نامزد ملزمان میں سے ایک شخص متاثرہ لڑکی سے نکاح کرے گا جبکہ لڑکی کے والد کو مالی معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جب جرگے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوسکا اور ملزمان اس سے منحرف ہوگئے تو متاثرہ لڑکی کے والد نے دوبارہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔
ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا، جبکہ جرگے کے ان ارکان کو بھی حراست میں لیا گیا جنہوں نے اس معاملے میں ثالثی اور فیصلے کا کردار ادا کیا تھا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نامزد ملزمان میں سے ایک شخص کا متاثرہ لڑکی کے ساتھ پہلے سے تعلق تھا۔ تاہم واقعے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے۔


