ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو صرف ایک جنگی کارروائی سمجھنا کافی نہیں۔ یہ ایک ایسا بحران ہے جس نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے اور دنیا کو متاثر کیا ہے۔ اس کے اثرات میدانِ جنگ سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون، تیل کی قیمتوں، جہاز رانی، خلیجی سلامتی، بینکاری نظام، علاقائی استحکام، اور عالمی معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔
اس بحران کی سب سے بنیادی حقیقت یہ ہے کہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امن کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔ عمانی وزیرِ خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے کہا تھا کہ امن “دسترس میں” ہے۔ ان کے مطابق ایران اس بات پر آمادہ تھا کہ وہ افزودہ یورینیم ذخیرہ نہیں کرے گا، باقی مواد کو ایسے ایندھن میں تبدیل کیا جائے گا جسے دوبارہ بم بنانے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے، اور اس پورے عمل کی نگرانی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کرے گی۔
اگر یہ صورتِ حال واقعی موجود تھی، تو پھر اصل سوال یہی بنتا ہے کہ جنگ کیوں چنی گئی۔ اگر مذاکرات آگے بڑھ رہے تھے، تو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا جواز کیا تھا؟ یہی اس بحران کا مرکزی نکتہ ہے۔ معاملہ کسی ایسے فوری اور ناگزیر خطرے کا نہیں لگتا جو جنگ کو لازم بنا دیتا۔ زیادہ مضبوط تاثر یہ بنتا ہے کہ سفارت کاری زندہ ہونے کے باوجود طاقت کو ترجیح دی گئی۔ دوسرے لفظوں میں، امن ممکن تھا، مگر جنگ چنی گئی۔
اسی پس منظر میں ایران کے سپریم لیڈر، آیت اللہ علی خامنہ ای، کو نشانہ بنانا اس بحران کو اور زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی شخصیت کا قتل نہیں تھا، بلکہ ایک خودمختار ریاست کی اعلیٰ ترین ریاستی اتھارٹی پر حملہ تھا۔ جب کسی ملک کے ساتھ مذاکرات جاری ہوں اور اسی دوران اس کی بلند ترین قیادت کو نشانہ بنایا جائے، تو اسے دفاعی اقدام کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ریاستی خودمختاری پر براہِ راست حملہ تھا۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقصد صرف عسکری دباؤ ڈالنا نہیں تھا، بلکہ ایرانی ریاست کے سیاسی مرکز کو کمزور کرنا اور سفارت کاری کو توڑنا بھی تھا۔
شہری اہداف پر حملوں نے اس بحران کو ایک واضح اخلاقی اور قانونی بحران میں بدل دیا۔ اگر ہسپتال، اسکول، رہائشی عمارتیں، بینک، اور دیگر عوامی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں، تو یہ دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے کہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جب شہری ڈھانچے متاثر ہونے لگیں، تو جنگ صرف ایک عسکری معاملہ نہیں رہتی بلکہ ایک انسانی اور قانونی بحران بن جاتی ہے۔
یہاں بین الاقوامی قانون مرکزی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت کسی خودمختار ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال اصولاً ممنوع ہے، سوائے چند محدود صورتوں کے، مثلاً سلامتی کونسل کی منظوری یا self-defence۔ لیکن اگر مذاکرات جاری ہوں، سفارتی راستہ موجود ہو، اور اس کے باوجود جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے، تو self-defence کی دلیل کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں زیادہ مضبوط تاثر یہی بنتا ہے کہ جنگ ایک سیاسی انتخاب تھی، نہ کہ آخری ناگزیر راستہ۔
یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ self-defence کا مطلب یہ نہیں کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہو جاتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون جنگ کے دوران بھی شہریوں اور شہری املاک کو تحفظ دیتا ہے۔ اسکول، ہسپتال، بینک، رہائشی عمارتیں، اور بنیادی ڈھانچے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ فوجی اور غیر فوجی اہداف میں فرق رکھا جائے، طاقت کے استعمال میں تناسب ہو، اور شہری نقصان کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ اگر اسرائیل اور امریکہ نے ایران میں شہری علاقوں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تو یہ دعویٰ کہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا تھا، قانونی اور اخلاقی دونوں سطحوں پر کمزور ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف، ایران ایک زیرِ حملہ ریاست ہے، اس لیے وہ اپنے ردِّعمل کو self-defence کے طور پر پیش کرے گا۔ یہ ایک فطری اور قانونی مؤقف ہے۔ تاہم یہاں بھی حدود باقی رہتی ہیں۔ یعنی جواب بھی ضرورت، تناسب، اور امتیاز کے اصولوں کے اندر ہونا چاہیے۔ اس پوری بحث میں ایک بنیادی فرق ہمیشہ واضح رہنا چاہیے: جنگ کس نے شروع کی، اور جواب کس نے دیا۔ اس بحران میں امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طاقت استعمال کی، جبکہ ایران حملے کا شکار ریاست کے طور پر جواب دے رہا ہے۔
خلیجی خطے سے متعلق ایک بات خاص طور پر واضح رہنی چاہیے۔ اگر امریکہ ایران پر حملوں کے لیے خلیجی ممالک میں موجود اپنے فوجی اڈے استعمال کر رہا ہے، تو ایران کا انہی امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا self-defence کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں ہدف خلیجی معاشرے یا خلیجی ریاستوں کی عمومی زندگی نہیں ہوتے، بلکہ وہ امریکی فوجی اڈے ہوتے ہیں جو ایران کے خلاف جاری حملوں کے عملی مراکز بن چکے ہوں۔ اس لیے اس معاملے کو خلیجی معاشروں کے خلاف حملہ کہنا درست نہیں۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ ایران ان امریکی فوجی تنصیبات کو جواب دے رہا ہے جو اس کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہی ہیں۔ البتہ یہاں بھی شرط یہی ہے کہ کارروائی صرف فوجی اہداف تک محدود ہو، ضروری ہو، متناسب ہو، اور شہری نقصان کم سے کم ہو۔
اس جنگ کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی۔ یہ مالیاتی اور اقتصادی ڈھانچوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ ایران کے بینکاری نظام، خاص طور پر سپاہ بینک اور بینک ملی کی خدمات میں خلل، اس بات کی علامت ہے کہ جنگ ریاستی اور معاشی ڈھانچوں تک جا پہنچی ہے۔ جب بینک متاثر ہوتے ہیں تو تنخواہیں رکتی ہیں، لین دین متاثر ہوتا ہے، کاروبار کمزور ہوتے ہیں، اور مالی اعتماد ہل جاتا ہے۔ اس لیے مالیاتی ڈھانچوں پر حملہ صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ معیشت اور روزمرہ نظام پر حملہ بھی ہے۔
اسی کے بعد ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے جڑے “اقتصادی مراکز اور بینکوں” کو ممکنہ اہداف قرار دینے کا اعلان سامنے آیا۔ بعض امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے وابستہ ڈھانچوں کے نام بھی لیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اب صرف فوجی نہیں رہی؛ یہ مالیاتی، ڈیجیٹل، اور تکنیکی میدانوں تک پھیل رہی ہے۔ جب جنگ بینکوں، ڈیجیٹل سسٹمز، اور اقتصادی ڈھانچوں تک پہنچ جائے، تو اس کا اثر صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آبنائے ہرمز کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ یہ صرف خلیج کی ایک گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ایک اہم شہ رگ ہے۔ اگر وہاں جہاز رانی غیر محفوظ ہو، تیل بردار جہاز خطرے میں ہوں، یا تجارتی راستے متاثر ہوں، تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے۔ تیل مہنگا ہوتا ہے، بیمہ مہنگا ہوتا ہے، تجارت مہنگی ہوتی ہے، اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک دباؤ میں آ جاتے ہیں۔ یعنی ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کی قیمت صرف ایران یا خلیج نہیں بلکہ پوری دنیا ادا کرتی ہے۔
ٹرمپ کی پالیسی کا ایک اور پہلو اتحادیوں پر دباؤ ہے۔ انہوں نے صرف ایران پر حملہ نہیں کیا، بلکہ بعد میں اتحادیوں سے بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور جہاز رانی کی سلامتی کے نام پر اس بحران کا بوجھ اٹھائیں۔ اطلاعات کے مطابق نیٹو اتحادیوں کو سخت وارننگ بھی دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف امریکہ جنگ کا فیصلہ خود کرتا ہے، دوسری طرف اس کے نتائج دوسروں پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خلیجی ریاستوں کے اڈے استعمال کیے گئے، پھر اتحادیوں سے کہا گیا کہ وہ اس جنگ کے سیاسی اور معاشی نتائج بھی سنبھالیں۔
ٹرمپ کے اپنے بیانات نے بھی اس بحران کو مزید الجھا دیا۔ ایک وقت پر انہوں نے کہا کہ ایرانی حملوں نے کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ بعض تباہی کی خبریں جعلی تھیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی تھیں۔ جنگ کے ماحول میں اس طرح کے متضاد بیانات خطرناک ہوتے ہیں۔ اتحادی واضح معلومات چاہتے ہیں، عالمی منڈیاں استحکام چاہتی ہیں، اور سفارت کاری کو پیش بینی درکار ہوتی ہے۔ جب قیادت خود متضاد دعوے کرے، تو غلط فہمی، عدمِ اعتماد، اور غیر ارادی تصعید کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکی مفکر جان میئرشائمر کی تنبیہ اس بحران کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف فضائی طاقت اور شدید بمباری سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں دیتی۔ تاریخ بار بار دکھاتی ہے کہ بڑے پیمانے کی تباہی اکثر ریاستوں کو جھکانے کے بجائے مزاحمت کو زیادہ مضبوط کر دیتی ہے۔ ان کے مطابق ایران ایک مضبوط حریف ہے اور اس کے پاس جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان کی بنیادی بات یہ ہے کہ تباہی خود حکمتِ عملی نہیں ہوتی۔ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے، شہری ڈھانچے تباہ کیے جائیں، جنگ کو وسیع کیا جائے، اور پھر بھی کوئی واضح سیاسی نتیجہ نہ نکلے، تو ایسی پالیسی طاقت سے زیادہ تزویراتی بھٹکاؤ بن جاتی ہے۔
ٹرمپ کی پالیسی کو صرف ایران کے خلاف سختی یا سلامتی کے اقدام کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ یہ ایک ہمہ جہتی جارحانہ حکمتِ عملی تھی جس میں عسکری تصعید، اتحادیوں پر سیاسی دباؤ، خلیجی ممالک کے جغرافیے اور اڈوں کا جنگی استعمال، اور اس پوری جنگ کی قیمت کو خطے اور دنیا پر منتقل کرنا شامل تھا۔ اسی لیے یہ بحران صرف ایران تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے علاقائی استحکام، بین الاقوامی قانون، اور عالمی معیشت سب کو متاثر کیا۔
اس پورے بحران کا نتیجہ یہ نکلا کہ سب سے پہلے سفارت کاری کو نقصان پہنچا، کیونکہ ایک ممکنہ سمجھوتے کو جنگ نے کمزور کر دیا۔ خودمختاری مجروح ہوئی، کیونکہ ایک خودمختار ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت کو مذاکراتی مرحلے میں نشانہ بنایا گیا۔ شہری ڈھانچے متاثر ہوئے، کیونکہ اسکول، ہسپتال، بینک، رہائشی عمارتیں، اور عوامی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔ اتحادی نظام پر دباؤ بڑھا، کیونکہ دوسروں سے ایک ایسی جنگ کے نتائج سنبھالنے کو کہا گیا جو انہوں نے شروع نہیں کی تھی۔ اور عالمی معیشت متاثر ہوئی، کیونکہ توانائی، جہاز رانی، مالیاتی اعتماد، اور تجارتی استحکام سب اس بحران کی زد میں آ گئے۔
اگر امن واقعی دسترس میں تھا اور اس کے باوجود جنگ کو ترجیح دی گئی، تو اس بحران کی عالمی قیمت کوئی حادثہ نہیں تھی۔ وہ طاقت کو سفارت کاری پر ترجیح دینے کا ایک شعوری سیاسی انتخاب تھی۔


