ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی میں پسند کی شادی کی اجازت نہ ملنے پر ایک نوعمر لڑکے اور لڑکی کے مبینہ طور پر زہریلی دوا کھانے سے جاں بحق ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے دونوں نوجوان آپس میں چچا زاد (کزن) تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ لڑکے کی عمر تقریباً 16 سال جبکہ لڑکی کی عمر 19 سال تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے تھے، تاہم اہل خانہ کی جانب سے انہیں اجازت نہیں دی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق دونوں نوجوان صبح کے وقت گاؤں کے قریب واقع ایک چشمے کے پاس گئے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر زہریلی دوا پی لی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اہل خانہ اور مقامی افراد نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
پنڈیالی پولیس کے مطابق دونوں کی لاشیں تھانے کی حدود میں واقع علاقے سے برآمد کی گئیں، جنہیں قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین تفتیش اور دیگر قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ اور غم کی فضا چھا گئی ہے، جبکہ مقامی افراد نے نوجوانوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق سامنے آنے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔


