جہلم کے تھانہ سٹی میں انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔
لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی سیاسی جماعت کے نعرے لگائے۔ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔


