کوئٹہ: قومی پیغام امن کمیٹی نے خودکش حملوں کو حرام اور بے گناہ انسانوں کا قتل صریحاً ناجائز قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو دہشتگردی اور خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل اور کوآرڈی نیٹر قومی پیغام امن کمیٹی حافظ طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں کمیٹی کے وفد نے کوئٹہ کے دورے کے دوسرے روز گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل سے ملاقات کی۔
اس موقع پر بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، امن، اتحاد، باہمی احترام، رواداری، مذہبی آزادی اور مساوی حقوق کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حافظ طاہر محمود اشرفی کی سربراہی میں جامعہ سلفیہ دعوت الحق میں تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ اور اکابرین کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔
اجلاس میں مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔
طویل مشاورت کے بعد جاری متفقہ اعلامیے میں خودکش حملوں کو صریحاً حرام، قابلِ مذمت اور معصوم انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں خواتین، بچوں، نوجوانوں اور طلبہ کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔
قومی پیغام امن کمیٹی نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف پاک افواج اور قومی سلامتی کے اداروں کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔
پیغام میں کہا گیا کہ قوم دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
اجلاس میں وحدتِ امت اور عالمی امن کے لیے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں اور خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
دورے کے دوران وفد نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کا دورہ بھی کیا، جہاں طلبہ کے ساتھ تعارفی نشست منعقد ہوئی۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے قومی ترقی، یکجہتی اور پُرامن معاشرے کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے وفد نے کوئٹہ کے سکھ گوردوارے کا بھی دورہ کیا، جہاں سردار جسبیر سنگھ نے بلوچستان کی سکھ برادری کی جانب سے وفد کا استقبال کیا۔
اس موقع پر بین المذاہب ہم آہنگی، باہمی افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ میں کمیٹی کے کردار پر گفتگو ہوئی۔
اقلیتی نمائندوں پادری سائمن بشیر اور سردار جسبیر سنگھ نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر غیر مسلم نمائندوں کو قومی امن کی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے منظم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی کوششیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان بلاامتیاز رنگ، نسل اور مذہب ہر پاکستانی کا مشترکہ وطن ہے۔


