آزاد کشمیر پولیس نے ریاست میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین میں فتنۃ الخوارج کے لوگ بھی شامل ہیں، جو دہشت گردوں کے روپ دھارے ہوئے ہیں اور دہشت گردی کے تحت کارروائیاں کررہے ہیں ۔
مظفرآباد: سیکیورٹی کی صورت حال پر نیوز کانفرنس کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ ایک عرصے سے کالعدم تنظیم کے کچھ لوگ جو اپنے آپ کو ذمہ دار کہلاتے ہیں اور کور کمیٹی کے رکن بھی ہیں، امن کی بات بھی کرتے تو ہر ایک احتجاجی تحریک میں سب سے پہلے کہتے ہیں ہم پرامن ہیں اور پرامن طریقے سے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اس لیے ان کے تمام حالات و واقعات سامنے رکھیں گے، جن سے ہم گزرے ہیں اور میں براہ راست اس کا شکار ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ ان کی احتجاجی تحریک کا آغاز جب 11 مئی 2024 کو ہوا تو ڈوڈھیال سے کوٹلی اور راولا کوٹ میں اختتام ہوتا ہے، جہاں سیکڑوں پولیس افسران کو گولیوں کے زخم آئے اور ہمارے ایک سب انسپکٹر عدنان کو شہید کیا گیا ۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری تحریک میں ہزاروں کے حساب سے لوگ ہتھیاروں کے ساتھ تھے اور پوری طرح مسلح ہو کر اس تحریک میں موجود تھے اور پولیس افسران پر جتھے کی صورت میں حملے کیے اور میری موجودگی میں 350 سے زائد پولیس افسران کو زخمی کیا گیا، خنجر اور اسلحہ استعمال کیا گیا، میں خود زخمی تھا، مجھے خنجر لگے تھے ۔
ایس ایس پی محمد ریاض مغل نے کہا کہ وہ سارے لوگ فتنۃ الخوارج کے لوگ تھے، نامعلوم لوگ تھے اور دہشت گردوں جیسے مختلف حلیے بنائے ہوئے تھے اور ان کا ہم نے سامنا کیا ہے تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ہم میں وہ لوگ موجود نہیں ہیں ۔


