اسرائیل کا نیا قانونِ سزائے موت محض ایک قانونی ترمیم نہیں، بلکہ فلسطینیوں کے خلاف ریاستی جبر، نسلی امتیاز اور منظم تشدد کو مزید قانونی جواز فراہم کرنے کی ایک خطرناک پیش رفت ہے۔ اس قانون کو صرف فوجداری قانون کے دائرے میں سمجھنا حقیقت کو محدود کرنا ہو گا، کیونکہ اس کی اصل معنویت اُس سیاسی، عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں پوشیدہ ہے جس کے اندر فلسطینی پہلے ہی ایک غیر مساوی، جابرانہ اور امتیازی نظام کے تابع زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ چنانچہ یہ قانون انصاف کے فروغ کا نہیں، بلکہ محکوم آبادی کے خلاف ریاستی طاقت کو مزید بے لگام بنانے کا مظہر ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے، جنہیں اسرائیلیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا جائے، پھانسی کو ایک متعین سزا کے طور پر پیش کرنا اس امر کی علامت ہے کہ ریاست محض سزا نہیں دینا چاہتی، بلکہ ایک خاص قوم کو نشانہ بنا کر اُس کی جان، اُس کے وجود اور اُس کے قانونی مقام کو بھی ازسرِنو متعین کرنا چاہتی ہے۔
قانون کی منظوری کے بعد اسرائیلی انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر کا شیمپین کی بوتل ہاتھ میں لیے جشن منانا اس امر کو آشکار کرتا ہے کہ یہاں قانون سازی کو اخلاقی ذمہ داری نہیں، بلکہ نظریاتی بالادستی اور سیاسی فتح کے مظاہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی منظر اس قانون کو محض سنگ دل نہیں، بلکہ ہولناک بنا دیتا ہے۔
اس قانون کی سب سے بنیادی خرابی اس کی امتیازی ساخت ہے۔ یہ ایک ایسا قانون نہیں جو تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو؛ بلکہ یہ اُس ماحول میں سامنے آتا ہے جہاں فلسطینی پہلے ہی الگ قانونی نظم، فوجی عدالتوں، کمزور قانونی تحفظات، وسیع اختیاراتِ گرفتاری اور ریاستی طاقت کے غیر متناسب استعمال کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب ایک محکوم آبادی کے لیے الگ عدالتی راستہ موجود ہو اور پھر اسی آبادی کے لیے موت کو قانونی انجام کے طور پر مخصوص کر دیا جائے، تو اسے انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ یہ قانون دراصل قانونی مساوات کے اصول کی نفی اور نسلی درجہ بندی کے عمل کی توسیع ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس قانون پر سب سے نمایاں اعتراض اس کے امتیازی اور غیر مساوی کردار پر ہوا۔ ایک ہی جغرافیے میں، ایک ہی ریاستی غلبے کے تحت، ایک آبادی کے لیے ایک قانون اور دوسری کے لیے دوسرا قانون—یہ کسی بھی مہذب قانونی تصور کے منافی ہے۔ انصاف کی بنیاد غیر جانبداری، مساوات اور انسانی وقار پر ہوتی ہے؛ لیکن یہ قانون ان تمام اصولوں کو معطل کر کے فلسطینی زندگی کو کم تر قانونی قدر دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قانون، قانون نہیں رہتا؛ وہ تسلط کی ایک تکنیک بن جاتا ہے۔
اس قانون کا دوسرا اور زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ یہ ریاستی تشدد کو محض ممکن نہیں بناتا، بلکہ اُسے قانونی زبان، عدالتی طریقۂ کار اور سرکاری اختیار کے ذریعے ادارہ جاتی صورت دیتا ہے۔ ظلم ہمیشہ گولی، بمباری یا فوجی یلغار کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ پارلیمان سے منظور ہوتا ہے، عدالت کے ذریعے نافذ ہوتا ہے، اور سزا کے نام پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہی اس قانون کی اصل ہولناکی ہے کہ یہ ریاستی سفاکیت کو قانون کے وقار میں چھپا کر پیش کرتا ہے۔ اس طرح جبر صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ قانون کی تحریر، عدالت کے فیصلے اور انتظامی کارروائی کے اندر سرایت کر جاتا ہے۔
اس قانون کو ایک تنہا اقدام کے طور پر بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ ایک ایسے وسیع تر ڈھانچے کا حصہ ہے جس میں فلسطینیوں کے لیے الگ قانونی راستے، فوجی عدالتیں، محدود اپیلیں، تیز تر سزائی عمل، اور کم نگرانی کے ساتھ زیادہ شدید ریاستی اختیارات پہلے ہی موجود ہیں۔ جب سزا ناقابلِ واپسی ہو، عدالتی نظام غیر مساوی ہو، اور اپیل کے امکانات محدود ہوں، تو پھر قانون تحفظ کا وسیلہ نہیں رہتا بلکہ موت کے انتظام کا آلہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو محض سزائے موت کی شق نہیں، بلکہ ایک مکمل جابرانہ قانونی معماری کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس پس منظر کو اُس سیاسی ماحول سے الگ کرنا بھی ممکن نہیں جس میں یہ قانون سامنے آیا ہے۔ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں، آبادکاروں کے حملے، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں، اور غزہ میں تباہی و بربادی کے ہولناک مناظر—یہ سب اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ قانون کسی مجرد قانونی ضرورت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ایسے ماحول کی پیداوار ہے جس میں فلسطینی جان کو مسلسل کم تر، کم محفوظ اور کم قابلِ سوگ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ یہ قانون ایک وسیع تر غیر انسانی سیاسی ذہنیت کی قانونی توسیع معلوم ہوتا ہے۔
بین الاقوامی انسانی اصولوں کی روشنی میں بھی یہ قانون شدید تشویش کا موجب ہے۔ حقِ حیات، انسانی وقار، مساوی قانونی تحفظ، منصفانہ سماعت، اور ظالمانہ و غیر انسانی سزاؤں کی ممانعت—یہ سب وہ اصول ہیں جن پر جدید قانونی اور اخلاقی نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ لیکن جب ایک ریاست انہی اصولوں کو ایک محکوم آبادی کے بارے میں معطل کر دے، تو مسئلہ صرف قانونی نہیں رہتا؛ وہ تہذیبی، اخلاقی اور انسانی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس قانون کی سنگینی اسی لیے دوہری ہے کہ یہ نہ صرف سخت ہے بلکہ امتیازی بھی ہے، اور نہ صرف امتیازی ہے بلکہ ایک محکوم قوم پر نافذ کیا جا رہا ہے۔
اتمار بن گویر کا جشن اس پورے منظرنامے کی سب سے برہنہ علامت ہے۔ سنجیدہ ریاستیں، اگر کسی غیر معمولی اور ناگزیر اقدام کا دعویٰ بھی کریں، تو اسے بوجھ اور احتیاط کے ساتھ پیش کرتی ہیں؛ مگر یہاں شادمانی، فخر اور سیاسی فتح کا اظہار کیا گیا۔ یہ جشن دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصود محض قانون سازی نہیں، بلکہ طاقت کا نمائشی اظہار ہے۔ گویا پیغام یہ دیا جا رہا ہے کہ ریاست نہ صرف اپنی مہلک قوت میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اسے ایک نظریاتی کامیابی کے طور پر دنیا کے سامنے رکھنا بھی چاہتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس قانون پر اعتراض صرف اسرائیل سے باہر نہیں اٹھا، بلکہ خود اسرائیل کے اندر بھی اسے چیلنج کیا گیا۔ یہ داخلی مزاحمت اس بات کی دلیل ہے کہ معاملہ کسی معمول کی قانونی رائے کا اختلاف نہیں، بلکہ قانون، انصاف، ریاستی اختیار اور انسانی حد بندیوں سے متعلق ایک بنیادی بحران ہے۔ جب ایک قانون اپنے ہی معاشرے کے اندر اس درجے کی اخلاقی اور قانونی بے چینی پیدا کرے، تو یہ اس کے غیر معمولی اور خطرناک ہونے کا واضح ثبوت ہوتا ہے۔
اس قانون کی سب سے بڑی ہولناکی یہ ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ظلم ہمیشہ کھلے تشدد سے شروع نہیں ہوتا؛ بعض اوقات وہ باقاعدہ قانونی اصطلاحات میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ تاریخ صرف قاتلوں کو نہیں، اُن قوانین کو بھی یاد رکھتی ہے جنہوں نے قتل کو قابلِ عمل بنایا؛ اُن ضابطوں کو بھی، جنہوں نے انسانوں کو الگ قانونی زمروں میں تقسیم کیا؛ اور اُن عدالتوں کو بھی، جنہوں نے طاقت کو انصاف کا نام دیا۔ اسی معنی میں یہ قانون محض ایک سخت قدم نہیں، بلکہ منظم ظلم کی قانونی تشکیل ہے۔
لہٰذا حقیقت یہ ہے کہ جب ایک ریاست ایک محکوم فلسطینی آبادی کے لیے الگ عدالتی ڈھانچہ برقرار رکھے، موت کو سزا کے طور پر خاص طور پر اُن پر نافذ کرے، اپیل کے امکانات محدود کرے، عمل درآمد کو تیز کرے، اور پھر اس پر جشن بھی منائے، تو وہ صرف قانون سازی نہیں کر رہی ہوتی؛ وہ منظم سفاکیت کے لیے قانونی، سیاسی اور انتظامی زمین ہموار کر رہی ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس عمل کو صرف ایک قانونی ترمیم کہنا ناکافی ہے۔ یہ قانون امتیاز کو ضابطہ بناتا ہے، سزا کو نمائش بناتا ہے، اور قتل کو پالیسی میں تبدیل کرتا ہے۔
یہ قانون تشدد کو روکتا نہیں، اسے منظم کرتا ہے۔ یہ انصاف کی حفاظت نہیں کرتا، اسے ریاستی اختیار کے تابع کر دیتا ہے۔ یہ کمزور کو پناہ نہیں دیتا، بلکہ اسے مزید غیر محفوظ، بے آواز اور بے دست و پا بناتا ہے۔ اسی لیے اس قانون کو ایک مجرد قانونی اقدام کے بجائے ایک ایسی مہلک پیش رفت کے طور پر سمجھنا چاہیے جو فلسطینیوں کے خلاف جاری ظلم کو مزید تیز، مزید منظم، اور مزید قانونی بنا دیتی ہے۔
Protesters hold placards outside the Red Cross offices in Ramallah, in the Israeli-occupied West Bank, on March 31, 2026, during a rally against a bill approved by Israel's parliament that would allow the execution of Palestinians convicted on terror charges for deadly attacks. Israel's parliament approved a bill on March 30, that would allow the execution of Palestinians convicted on terror charges for deadly attacks, a move that has been criticised as discriminatory and immediately drew a court challenge. (Photo by Zain JAAFAR / AFP via Getty Images)
Previous Articleاسلام آباد میں ایک ماہ کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان

