ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کی عسکری پوزیشن جنگ سے پہلے کے مقابلے میں مزید مضبوط ہو چکی ہے اور اگر تنازع طویل بھی ہو جائے تو ایران اسے جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کے دوران بھی ایران نے ہتھیاروں کی پیداوار کا عمل جاری رکھا، جس کے باعث ملک دفاعی اور عسکری لحاظ سے پہلے سے زیادہ طاقتور ہو گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کسی بھی طویل تنازع کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایران جنگ کا خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امن اور استحکام کو ترجیح دیتا ہے لیکن اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔
عباس عراقچی نے اپنے ایک اور حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران صرف اپنے دفاع میں کارروائیاں کرتا ہے اور ان تمام مقامات کو نشانہ بناتا ہے جہاں سے ایران کے خلاف حملوں کی اجازت یا معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی اور سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی عسکری سرگرمیوں کا مقصد صرف قومی دفاع کو یقینی بنانا ہے۔


