پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بھارت انڈس واٹرز معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں پر کسی بھی ہائیڈرو پاور منصوبے کی یکطرفہ تعمیر کا مجاز نہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت اپنی "محدود اجازت” کا غلط استعمال نہیں کر سکتا۔
ترجمان یہ بات بھارت کی جانب سے چناب دریا پر 260 میگاواٹ کے ڈلہاستی اسٹیج ٹو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی منظوری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہہ رہے تھے۔ یہ منصوبہ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں تعمیر کیا جا رہا ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے اس منصوبے سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت نے اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کو کوئی پیشگی اطلاع یا باضابطہ نوٹیفکیشن فراہم نہیں کیا، حالانکہ یہ انڈس واٹرز معاہدے کے تحت لازمی ہے۔
ترجمان کے مطابق، پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے بھارتی ہم منصب سے اس منصوبے کی نوعیت، دائرہ کار اور تکنیکی تفصیلات کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ نیا رن آف دی ریور منصوبہ ہے یا کسی موجودہ منصوبے میں توسیع یا تبدیلی کی جا رہی ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مغربی دریاؤں پر کسی بھی منصوبے کے لیے سخت ڈیزائن، آپریشنل کنٹرول اور معلومات کے تبادلے کی شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ بھارت کی جانب سے باضابطہ جواب نہ ملنے کی صورت میں پاکستان اس منصوبے کی معاہدے سے مطابقت کا جائزہ لینے سے قاصر ہے۔


