گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر انتخابی میدان سج چکا ہے اور پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری ہے۔ اس بار کے انتخابات میں مجموعی طور پر 9 لاکھ 58 ہزار 480 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں جن میں 5 لاکھ 3 ہزار 772 مرد اور 4 لاکھ 54 ہزار 708 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ پورے خطے میں 1 ہزار 368 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جبکہ 396 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 8 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔
Election Commission of Pakistan کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے 23 حلقوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 22، استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان مسلم لیگ نے 11 اور پاکستانی نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے 19 امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہیں۔
ابتدائی حلقہ وار صورتحال کے مطابق مختلف نشستوں پر سخت مقابلہ جاری ہے۔
حلقہ جی بی 1 میں 23 امیدوار مدمقابل ہیں جہاں مقابلہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔ یہاں 80 پولنگ اسٹیشنز پر 47 ہزار 373 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔
حلقہ جی بی 2 میں 40 امیدوار میدان میں ہیں، جہاں سابق وزیر اعلیٰ کے امیدوار سمیت ن لیگ، پیپلز پارٹی اور آزاد حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ اس حلقے میں 73 پولنگ اسٹیشنز اور 55 ہزار 849 ووٹرز ہیں۔
حلقہ جی بی 3 میں 22 امیدوار، جی بی 4 میں 22، جی بی 5 میں 23 اور جی بی 6 میں 27 امیدواروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے مضبوط امیدوار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔
جی بی 7 سے جی بی 12 تک متعدد حلقوں میں ن لیگ، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار، اسلامی تحریک اور آزاد امیدوار ایک دوسرے کے مقابلے میں ہیں، جبکہ کئی حلقوں میں سخت اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
جی بی 13 سے جی بی 17 تک بھی انتخابی صورتحال نہایت دلچسپ ہے، جہاں مختلف حلقوں میں 10 سے 33 امیدوار تک میدان میں ہیں اور مقابلہ مسلسل سخت ہوتا جا رہا ہے۔
جی بی 18 سے جی بی 21 میں بھی مقابلہ جاری ہے، جہاں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آخری حلقوں جی بی 22، جی بی 23 اور جی بی 24 میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں کہیں کم اور کہیں زیادہ امیدوار میدان میں ہیں، لیکن ہر جگہ ووٹرز کا جوش و خروش نمایاں ہے۔
پورے گلگت بلتستان میں پولنگ کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور مختلف حلقوں میں حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی جاری ہے۔ پولنگ کے اختتام کے بعد نتائج کا انتظار شروع ہو جائے گا۔


