گلگت بلتستان کی صوبائی نگران کابینہ کے ارکان نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی جس میں سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔
نگران کابینہ کے ارکان سے اسپیکر اسمبلی نذیر ایڈوکیٹ نے حلف لیا۔ تقریب میں نگران وزیر اعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد، سابق وزیر اعلیٰ اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حلف برداری سے قبل ہی نگران کابینہ کے ارکان کو محکمے الاٹ کر دیے گئے تھے، جس کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ساجد علی بیگ کو محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات جبکہ غلام عباس کو اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا گیا ہے۔
کرنل (ر) ابرار اسماعیل کو خزانہ، منصوبہ بندی اور ترقیات جیسے اہم محکمے سونپے گئے ہیں، جبکہ انجینئر الطاف حسین کو بلدیات اور دیہی ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
مہرداد کو خوراک اور مولانا سرور شاہ کو معدنیات اور انڈسٹریز کا محکمہ دیا گیا ہے۔ مولانا شرافت دین کو جنگلات، جنگلی حیات اور ماحولیات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔
سید عدیل شاہ کو اسپورٹس، کلچر اور یوتھ افیئرز جبکہ انجینئر ممتاز حسین کو پانی و بجلی کے محکمے دیے گئے ہیں۔ بہادر علی کو تعلیم اور قانون اور ڈاکٹر نیاز علی کو صحت کا محکمہ تفویض کیا گیا ہے۔
راجہ شہباز خان کو سیاحت، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ورکس و مواصلات کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
چودہ رکنی نگران کابینہ میں واحد خاتون مشیر سیدہ فاطمہ کو سوشل ویلفیئر، پاپولیشن اور خواتین کی ترقی کا قلمدان دیا گیا ہے، جبکہ عبدالحکیم کو زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز اور واٹر مینجمنٹ کے محکمے سونپے گئے ہیں۔


