اسلام آباد: وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت دکانداروں کے لیے آسان ٹیکس سکیم کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں آسان ٹیکس سکیم سے متعلق آگاہی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا.
ملک بھر کے ٹیکس کمشنرز کو مقامی ٹیکس بارز سے رابطوں کی ہدایت کی گئی۔
دکاندار اپنی پسند کے وکلا کی مدد سے بھی فارم بھر سکیں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ تاجر نمائندوں کی مدد سے ہر دکاندار تک آسان ٹیکس سکیم کی معلومات پہنچائی جائیں۔
حکومت نے تاجروں کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے، اب دکانداروں نے خود تیار کردہ سکیم کو کامیاب بنانا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر افسران اور تاجر نمائندوں کے بازاروں کے مشترکہ دوروں کے لیے مقامی تاجر نمائندوں کی فہرستیں موصول ہوگئی ہیں۔
دکانداروں کے پاس آسان ٹیکس سکیم کے تحت ٹرن اوور کی بنیاد پر فکسڈ ٹیکس ادا کرنے یا معمول کا گوشوارہ جمع کرانے کے دونوں آپشن موجود ہیں۔
دونوں آپشنز میں سے کوئی بھی استعمال نہ کرنے والے دکاندار پر پہلے، دوسرے اور تیسرے ماہ بالترتیب 10 ہزار، 25 ہزار اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔
سکیم کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دکانداروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔


