واشنگٹن: سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن کا انعقاد کیا گیا.
تقریب میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں، امریکی تکنیکی ماہرین، سرمایہ کاروں اور کاروباری شراکت داروں نے بھرپور شرکت کی۔
سلیکان ویلی اور ڈیلاس کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ کا اہتمام سفارت خانہ پاکستان، پاکستانی قونصل خانوں اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے اشتراک سے کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاک-امریکہ دوطرفہ تعلقات کو انسداد دہشت گردی سے آگے بڑھ کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب نئی سمت دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے بعد آئی ٹی کے شعبے میں دونوں ممالک کا تعاون مثالی اور نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔
سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے مقام کو امریکی مارکیٹ میں ایک مؤثر تجارتی شراکت دار کے طور پر متعارف کرانا ضروری ہے۔
گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے دفاع اور سفارت کاری میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے، اب معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں کلیدی سیاسی کردار ادا کیا اور اب معاشی میدان میں بھی اپنی اہمیت ثابت کرے گا۔
پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کا مقصد پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکی منڈی میں نئے تجارتی روابط استوار کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
سفیر پاکستان کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مسابقتی کاروباری ماڈلز اور تعمیری تکنیکی ماحول اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عالمی ڈیجیٹل معیشت میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کو امریکی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے۔
اس موقع پر پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل جیڈی نے پاکستانی ٹیک کمپنیوں کی عالمی کارکردگی اور مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
ٹریڈ منسٹر حنیف چنا نے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر گفتگو کی۔
تقریب میں 16 معروف پاکستانی آئی ٹی فرموں، جن میں اگنائیٹ، اوپن، سسٹمز لمیٹڈ، 10 پرلز، ٹی ایم سی اور ٹیکلوجکس شامل ہیں، نے شرکت کی اور اپنے آپریشنز سے متعلق آگاہ کیا۔
اس موقع پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔


