Close Menu
K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    مقبول خبریں
    حادثات

    کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن

    ستمبر 3, 2026
    بلاگ

    ایک بیٹی، ایک ماں مریم نواز جیل کی سلاخوں سے اقتدار تک کا سفر, تحریر: علی شیر

    ستمبر 3, 2026
    امن

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کر دیے

    ستمبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    ستمبر 3, 2026
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    رابطہ کریں کےٹو ٹی وی
    • صفحہ اول
    • قومی خبریں
    • ہزارہ
    • پوٹھوہار
    • گلگت بلتستان
    • چترال
    • شوبز
    • دلچسپ و عجیب
    • کھیل
    • کےٹو ٹی وی
    KAY2 TV
    K2 Times | کے ٹو ٹائمزK2 Times | کے ٹو ٹائمز
    You are at:Home»بلاگ»ایک بیٹی، ایک ماں مریم نواز جیل کی سلاخوں سے اقتدار تک کا سفر, تحریر: علی شیر
    بلاگ ستمبر 3, 2026

    ایک بیٹی، ایک ماں مریم نواز جیل کی سلاخوں سے اقتدار تک کا سفر, تحریر: علی شیر

    ستمبر 3, 20269 Mins Read
    Facebook Twitter Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    پاکستانی سیاست میں اقتدار تک پہنچنے کی کہانیاں بہت ہیں، مگر ہر کہانی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اقتدار کے دروازے تک سیاسی وراثت کے سہارے پہنچتے ہیں، کچھ انتخابی کامیابی کے ذریعے، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو وراثت کے باوجود اپنی سیاسی شناخت بنانے کے لیے ایک طویل اور کٹھن راستے سے گزرتے ہیں۔ مریم نواز شریف کی کہانی بھی اسی تیسرے زاویے سے دیکھی جانی چاہیے۔

    وہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی ضرور ہیں، شریف خاندان کی سیاسی وارث بھی سمجھی جاتی رہی ہیں، مگر پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ تک ان کا سفر محض ایک خاندانی نسبت کا نتیجہ قرار دینا ان کی سیاسی جدوجہد کے کئی اہم ابواب کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

    2017ء کے بعد مریم نواز نے جس شدت سے عملی سیاست میں قدم رکھا، پھر 2018ء میں سزا، گرفتاری اور اڈیالہ جیل کا سامنا کیا، والد کے ساتھ سیاسی مشکلات برداشت کیں اور بعد ازاں اپوزیشن سیاست میں ایک جارحانہ آواز کے طور پر سامنے آئیں، اس نے ان کی سیاسی شناخت کو نئی شکل دی۔ 2018ء میں انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی اور پاکستان واپسی پر انہیں گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ قید تنہائی سے لیکر مختلف تکالیف سہنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا معطل کرکے انہیں ضمانت پر رہا کیا۔ پھر 2019ء میں وہ دوبارہ گرفتار ہوئیں، یہ وہ مرحلہ تھا جہاں مریم نواز شریف صرف نواز شریف کی بیٹی نہیں رہیں۔ وہ خود ایک سیاسی کردار بن گئیں۔
    مریم نواز کی سیاست کا سب سے اہم موڑ جیل کی کال کوٹھری تھا جہاں انہیں یہ احساس ہوا کہ سیاست صرف جلسوں کے اسٹیج، نعروں اور انتخابی مہم کا نام نہیں۔ سیاست کبھی کبھی جیل کی ایک چھوٹی سی کوٹھڑی بھی ہوتی ہے۔ اور کبھی وہی کوٹھڑی ایک سیاسی رہنما کی شخصیت کو نئے سرے سے تشکیل دیتی ہے۔اور یہاں سے ان کا نیا سیاسی سفر شروع ہوا جسے ہم مزاحمتی سیاست کہہ سکتے ہیں

    مریم نواز نے 2018ء کے بعد تن تنہا جس سیاسی جارحیت کے ساتھ مسلم لیگ ن کا بیانیہ آگے بڑھایا، اس نے انہیں پارٹی کی اہم ترین آوازوں میں شامل کر دیا۔ 2019ء میں نواز شریف کے لندن جانے کے بعد مریم نواز نے ملک گیر مہم کی قیادت کی اور عمران خان حکومت، اسٹیبلیشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف اپنی جماعت کا سخت سیاسی مؤقف پیش کیا یہاں سے ان کی سیاست میں ایک نمایاں مزاحمتی پہلو پیدا ہوا۔
    وہ سوال اٹھاتی رہیں۔
    وہ جلسوں میں گرجتی رہیں۔
    وہ اپنے والد کے سیاسی مقدمے کو اپنا مقدمہ بناتی رہیں۔
    اور مخالفین کی شدید تنقید کے باوجود سیاسی میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں۔
    اسی مزاحمتی جہدوجہد ہی کی بنیاد پر پھر ایک دن پنجاب نے تاریخ بدل دی 26 فروری 2024ء۔
    یہ صرف ایک تاریخ نہیں تھی۔
    یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب تھا۔ مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں۔
    371 رکنی ایوان میں انہیں 220 ووٹ ملے اور انہوں نے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سنبھال کر اس عہدے پر فائز ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب ایک ایسی لڑکی، جس کے بارے میں کبھی سوال اٹھایا جاتا تھا کہ وہ سیاست کے اس سخت اور خالصتا مردانہ میدان میں کہاں تک جا سکے گی، وہ پنجاب کے بارہ کروڑ سے زائد لوگوں کی ذمہ دار بن چکی تھی۔
    وزارتِ اعلیٰ سنبھالتے ہی ایک اہم سیاسی اعلان کیا:

    "میں صرف مسلم لیگ ن کی وزیراعلیٰ نہیں، پنجاب کے ساڑھے بارہ کروڑ عوام کی وزیراعلیٰ ہوں۔
    یہ جملہ دراصل ان کی سیاسی جدوجہد کے اگلے مرحلے کا اعلان تھا۔
    مزاحمت کے بعد اب امتحان کارکردگی کا تھا
    اقتدار حاصل کرنا ایک امتحان ہے۔
    اقتدار برقرار رکھنا دوسرا۔
    لیکن اقتدار میں کارکردگی دکھانا سب سے بڑا امتحان ہے۔
    مریم نواز کے لیے یہ امتحان اس لیے بھی مشکل تھا کہ وہ ایسے سیاسی خاندان کی میراث سنبھال رہی تھیں جس کے ایک فرد، شہباز شریف، پنجاب میں "خادمِ اعلیٰ” اور "پنجاب اسپیڈ” کے نام سے طویل عرصہ حکمرانی کر چکے تھے۔
    خود مریم نواز نے وزارتِ اعلیٰ کے پہلے خطاب میں اعتراف کیا کہ جس کرسی پر وہ بیٹھی ہیں اس پر شہباز شریف کی کارکردگی کا معیار موجود ہے اور اسے آگے بڑھانا آسان کام نہیں۔
    چنانچہ مریم نواز نے اپنی حکومت کے آغاز ہی سے ایک تیز رفتار، منصوبہ جاتی اور براہِ راست نگرانی پر مبنی طرزِ حکمرانی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
    انہوں نے اپنی ترجیحات کا تعین کیا
    اول:- نسل نو اور تعلیم و تربیت
    اس ضمن میں انہوں نے
    ہونہار اسکالرشپ پروگرام اور چیف منسٹر لیپ ٹاپ پروگرام کو پالیسی کا حصہ بنایا۔ نوجوانوں کو تعلیم اور کاروبار کے شعبوں میں مالی معاونت بھی فراہم کی نیز یہ کہ انفارمیشن ڈیجیٹل کی دنیا سے نوجوانوں کو ہم آہنگ رکھنا اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا۔
    یہاں مریم نواز کے سیاسی بیانیے کا ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔
    وہ نوجوانوں کو محض سیاسی جلسوں کا ہجوم نہیں سمجھتیں۔
    وہ انہیں مستقبل کی سیاسی، معاشی اور سماجی طاقت سمجھتی ہیں۔
    اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پروگراموں میں اسکالرشپس، لیپ ٹاپس، بائیکس اور نوجوانوں کے لیے مواقع کو نمایاں جگہ دی گئی۔
    مریم نواز خود متعدد مواقع پر کہہ چکی ہیں کہ نوجوان ان کی اولین ترجیح ہیں۔
    دؤم؛- صحت: اسپتال سے گھر تک
    مریم نواز حکومت نے صحت کے شعبے میں بھی کئی منصوبوں کا اعلان اور آغاز کیا بلخصوص پنجاب حکومت نے ہسپتالوں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز، تحصیل ہیڈکوارٹرز، کلینک آن ویلز اور فیلڈ ہسپتالوں کی نگرانی کے لیے ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا
    سوم:- مریم نواز حکومت نے صفائی، انفراسٹرکچر، سڑکوں اور شہری سہولتوں کے منصوبوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔
    یہاں ان کی حکومت کی ایک بڑی حکمت عملی نظر آتی ہے:
    لوگوں کو حکومت کی موجودگی محسوس ہونا شروع ہوگئی ۔
    بہتر سڑک۔
    صفائی ستھرائی۔ سٹی بیوٹی فیکیشن
    پارک بنے۔
    ہسپتال میں سہولت ملے۔
    طالب علم کو اسکالرشپ ملے۔
    نوجوان کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ یا بائیک ہو۔
    یعنی سیاست کو تقریر سے نکال کر روزمرہ زندگی تک پہنچایا جائے۔
    یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کی حکومت کے حامی ان کی کارکردگی کو "ڈیلیوری کی سیاست” قرار دیتے ہیں۔
    مریم نواز کی سیاسی گفتگو میں ایک نیا اور منفرد حوالہ بھی سامنے آیا ہے:
    ماں۔
    وہ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کئی مرتبہ خود کو وزیراعلیٰ سے زیادہ ماں کے کردار میں پیش کر چکی ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ طلبہ کے لیے وزیراعلیٰ نہیں بلکہ ماں بن کر سوچتی ہیں اور اسکالرشپ ان کا حق ہے۔2026ء میں ایک خطاب کے دوران مریم نواز نے خود بتایا کہ چھوٹے شہروں میں بچے انہیں "سب کی ماں” کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دفتر میں وہ وزیراعلیٰ ہوتی ہیں لیکن گھر میں ایک ماں۔
    یہ لقب محض جذباتی جملہ نہیں۔
    پاکستانی سیاست میں "ماں” کا تصور ایک بہت طاقتور سیاسی استعارہ ہے۔
    ماں سے عوام تحفظ چاہتے ہیں۔
    ماں سے انصاف چاہتے ہیں۔
    ماں سے امتیاز کے بغیر محبت چاہتے ہیں۔
    اور ماں سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں میں فرق نہیں کرے گی۔
    مریم نواز نے "سب کی ماں” صرف مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی نہیں، بلکہ ہر اس شہری کی ماں کا کردار نبھانے کی کوشش کر رہی ہے جو ان کا سیاسی مخالف ہے۔
    وہ کسان جو حکومت سے اختلاف کرتا ہے۔
    وہ نوجوان جو اپوزیشن کی سیاست کرتا ہے۔
    یہ ماں ہے ان خواتین اور بچیوں کی جو کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں۔
    یہ ماں ہے اس غریب کی جس کے پاس کسی حکمران تک پہنچنے کا راستہ نہیں۔
    مریم نواز کی سیاست کا پہلا دور مزاحمت کا تھا۔
    دوسرا دور اقتدار کا ہے۔
    پہلے دونوں ادوار میں وہ کامیاب ٹھہری
    اب تیسرا دور ثابت کرنے کا ہے۔ جس میں وہ شبانہ روز محنت کر رہی ہیں۔
    انہوں نے ایک ایسی سیاست دیکھی جس میں والد کو اقتدار سے نکالا گیا۔
    خاندان کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
    خود جیل گئیں۔
    والد کے ساتھ سیاسی جدوجہد کی۔
    مخالفین کی شدید تنقید برداشت کی۔
    اور پھر اسی سیاسی میدان میں کھڑی رہیں۔
    آخرکار وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن گئیں۔
    یہ سفر آسان نہیں تھا۔
    خود مریم نواز نے 2026ء میں اعتراف کیا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی تک پہنچنا آسان نہیں تھا، اڈیالہ جیل کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا جرم کیا ہے۔
    یہ ان کے سیاسی سفر کا شاید سب سے طاقتور باب ہے۔
    اب تاریخ مریم نواز سے یہ توقع کرتی ہیکہ آپ مزاحمت کرکے اقتدار تک پہنچ گئیں۔
    آپ نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن کر تاریخ بھی رقم کر دی۔
    آپ نے اسکالرشپ دیے۔
    لیپ ٹاپ پروگرام شروع کیے۔
    صحت اور شہری سہولتوں کے منصوبے شروع کیے۔
    اور تاریخ انہیں یہ پیغام بھی دیتی ہیکہ اب آپ نے پنجاب کے عام آدمی کے دل میں جگہ بنانی ہے
    تاریخ میں وزیراعلیٰ بہت گزرے ہیں۔
    لیکن "سب کی ماں” کہلانے کا مرتبہ مقام آپ کو ملا ہے ۔
    اور ماں تو ماں ہوتی ہے جسے اپنے ہر بچے کے دکھ کا احساس ہوتا ہے۔
    آپ نے حقیقی معنوں میں ماں کا کردار نبھانا ہے آپ کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا باوجود ان تمام مشکلات کے اگر آپ ماں کا کردار نبھانے میں کامیاب ہوئی تو پھر تاریخ آپ کو آپ کے والد کی سیاسی وارث قرار تو دے گی مگر آپ کو سب سے بڑا خطاب اور بڑی شناخت ” پنجاب کی ماں” ہوگا
    ماں بن کر آپ نے اب جنگ مخالفین سے نہیں۔
    آپ نے جنگ مہنگائی، غربت، بے روزگاری، بدانتظامی، ناانصافی اور عام آدمی کی بے بسی کے خلاف لڑنی ہے۔
    آپ کے سیاسی سفر کا سب سے خوبصورت امتحان بھی یہی ہے:
    کل اپ اپنے سیاسی خاندان کے لیے لڑ رہی تھیں؛
    آج آپ پنجاب کی ماں بن کر پورے پنجاب کے لیے کرنا ہے۔
    اسی کردار کو اپنائے رکھنے سے ہی ایک روز عوام کہے گی آپ کے مخالفین کہیں گے کہ مریم نواز کی اصل سیاسی منزل وزارتِ اعلیٰ نہیں، بلکہ اس منصب پر فائز ہوگر اس نے خود کو پنجاب کی ماں ثابت کرنا تھا اور وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    Share. Facebook Twitter Email
    Previous Articleپاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کر دیے
    Next Article کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن
    Idrees
    • Website

    Related Posts

    کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن

    ستمبر 3, 2026

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کر دیے

    ستمبر 3, 2026

    گڈانی شپ ری سائیکلنگ کی جدید کاری کے لیے 12 ارب روپے کا منصوبہ شروع

    ستمبر 3, 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین خبریں
    حادثات

    کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن

    ستمبر 3, 2026
    امن

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کر دیے

    ستمبر 3, 2026
    بلوچستان

    گڈانی شپ ری سائیکلنگ کی جدید کاری کے لیے 12 ارب روپے کا منصوبہ شروع

    ستمبر 3, 2026
    امن

    کشمیری رہنما یاسین ملک کا مزید مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ، بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، حلف نامہ جمع

    ستمبر 3, 2026
    • Facebook
    • YouTube
    • Twitter
    • Instagram
    نمایاں خبریں
    اگست 31, 2026

    مزاحمت کا مرد حر کی مفاہمتی سیاست اور نواز شریف سے اشتراک، تحریر: علی شیر

    بلاگ

    پاکستان کی سیاست میں بعض القابات محض سیاسی نعروں سے پیدا نہیں ہوتے، انہیں وقت،…

    بلوچستان

    ژوب سے مبینہ اغواء ہونے والا طالب علم کوئٹہ پولیس نے بازیاب کرا لیا، 3 ملزمان گرفتار

    اگست 28, 2026
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    ایڈیٹر کا انتخاب
    خاص خبریں

    پنجاب بائیک سکیم: آن لائن رجسٹریشن کیسے کریں؟ مرحلہ وار گائیڈ چیک کریں

    اپریل 15, 2024
    خاص خبریں

    پنجاب میں 50,000 گھروں کے لیے مفت سولر پینل! کیا آپ درخواست دینے کے اہل ہیں؟ یہاں چیک کریں!

    اپریل 16, 2024
    خاص خبریں

    ایبٹ آباد میں لاپتہ لیڈی ڈاکٹر وردہ کی لاش چار دن بعد برآمد، ڈاکٹروں کا احتجاج

    دسمبر 8, 2025
    مقبول خبریں
    حادثات

    کراچی کو یرغمال بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دینگے، سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن

    ستمبر 3, 2026
    امن

    پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز نے 15 خوارج ہلاک کر دیے

    ستمبر 3, 2026
    بلوچستان

    گڈانی شپ ری سائیکلنگ کی جدید کاری کے لیے 12 ارب روپے کا منصوبہ شروع

    ستمبر 3, 2026

    نئے فالو اپ کے ساتھ

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں۔

    .K2Times © 2026. All Rights Reserved

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.