اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ناجائز غاصبانہ انضمام کو 7 سال مکمل ہونے پر دنیا بھر میں کشمیری آج یوم استحصال منا رہے ہیں۔
یوم استحصال کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار ہے۔
یہ دن منانے کا مقصد بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدام کی مذمت کرنا ہے۔
سن 2019 میں آج ہی کے دن بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔
اس اقدام کو اس وقت سے عالمی برادری، کشمیری اور پاکستانی عوام مسترد کرتے آ رہے ہیں۔
اس دن کی مناسبت سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔
صبح نو بجے سائرن بجائے گئے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ریلیاں نکالی جائیں گی۔
یوم استحصال مودی سرکار کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35Aاے کی غیر آئینی تنسیخ کے خلاف احتجاج کے طور پر منایا جاتا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار اور منصفانہ امن کا قیام تنازع جموں و کشمیر کے پرامن حل سے جڑا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ کشمیریوں کی بہادری اورحقِ خود ارادیت کیلئے ان کی منصفانہ جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی مکروہ کوششوں کو مزید تیز کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں سیاسی قیادت کو دبانا، شہری آزادیوں پر قدغنیں، آزاد ذرائع ابلاغ پر پابندیاں باعث تشویش ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود کشمیری عوام کاحوصلہ، استقامت اور ثابت قدمی آج بھی غیرمتزلزل ہے۔
تنازع کشمیر جنوبی ایشیامیں امن واستحکام کیلئے سب سے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا منصفانہ اور پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔


