سوات کے علاقے کبل میں تھانہ کبل کے مرکزی گیٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں مزید دو زخمی دم توڑ گئے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 17 ہوگئی ۔ شہداء میں 7 پولیس اہلکار اور 10 شہری شامل ہیں، جبکہ 23 سے زائد افراد مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں ۔ شہداء کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا، جبکہ کبل بازار مکمل طور پر بند رہا اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھائی رہی ۔
سوات (عدنان باچا) واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی کبل میں نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف درج کر لی گئی ہے، جس میں قتل، اقدام قتل اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خودکش حملے میں 6 سے 8 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا ۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے واقعے کے بعد ضلع سوات کا ہنگامی دورہ کیا، انہوں نے سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور زخمیوں کے بلند حوصلوں کو سراہتے ہوئے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی، آئی جی پولیس نے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو زخمیوں کو بہترین علاج کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ اور ڈی پی او سوات بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔
بعد ازاں ریجنل پولیس آفس مالاکنڈ میں آئی جی پولیس کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالاکنڈ ریجن کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، حملے کے محرکات، ذمہ داروں اور سہولت کاروں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تحقیقات کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔ آئی جی پولیس نے ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے اعلان کیا کہ حملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے گی، شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو مکمل شہداء پیکج فراہم کیا جائے گا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر پہلے سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس جوانوں نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خودکش حملہ آور کو مرکزی مقام تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے باعث بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور پولیس کو جدید اسلحہ، آلات اور سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے ۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی بھی معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور آئی جی پولیس کے ہمراہ سوات پہنچے ۔
انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ نے سیدو شریف ٹیچنگ ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت بھی کی اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ۔
وزیراعلیٰ نے بعد ازاں سوات میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں حملے، مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق کی ناقص پالیسیوں کا خمیازہ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس بھگت رہے ہیں، تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور شہریوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی ۔
انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے عوام، پولیس اور تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کو متحد ہونا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن مرحلہ جاری ہے اور اس ناسور کا مکمل خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تمام وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت مؤثر حکمت عملی کے ذریعے خیبرپختونخوا میں امن بحال کرے گی اور رواں سال کو امن، ترقی اور خوشحالی کا سال بنایا جائے گا ۔


