بھارت میں جین زی (Gen Z) احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی ہے اور نئی دہلی کے بعد یہ تحریک اب متعدد شہروں تک پھیل چکی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس احتجاج نے مودی حکومت کی کارکردگی اور انتظامی معاملات پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی صحافی نیہا پونیا کے مطابق مودی حکومت کے دور میں متعدد ایسے اقدامات اور فیصلے سامنے آئے جن کے باعث لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طلبہ متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے نوجوانوں میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جین زی تحریک نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی حاصل کی ہے، جہاں نوجوانوں نے اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کرتے ہوئے روایتی میڈیا کے بجائے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اظہارِ رائے کا ذریعہ بنایا۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ احتجاجی مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا، جس سے متعدد طلبہ متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان الزامات کی تردید کر رہی ہے، تاہم متاثرہ طلبہ کے بیانات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔


