خیبرپختونخوا اسمبلی نے صحافیوں پر قید، جرمانہ اور پابندی کا قانون منظورکرلیا۔
تنخواہوں ،مراعات اوراستثنیٰ کے قانون کا گزیٹیڈ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔
قانون کے تحت سپیکر کے پاس اختیار ہے وہ کسی بھی صحافی کو ایوان کی کارروائی کی کوریج سے روک سکتا ہے۔
سپیکر پابندی کی زد میں آنے والوں پر خاص مدت تک کیلئے پابندی عائد کر سکتا ہے۔
سپیکر کے پاس اب اختیار ہے کہ وہ ایوان کی کسی بھی کارروائی کو شائع کرنے یا نشر کرنے سے روک کر اس پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔
بِل کے مطابق خلاف ورزی کرنے پر مذکورہ شخص یا صحافی کو 6 ماہ تک قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
بل میں مزید کہا گیا اگر کوئی صحافی یا ادارہ اسمبلی کارروائی کو توڑ مروڑ کر رپورٹ کرے گا تو اس کی خلاف کارروائی کی جائے گی جس کے تحت صحافی کو 3 سال تک قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
سپیکر پر جانبداری کا الزام لگانے یا سپیکر کے کردار پر تنقید کرنے والے صحافی کو 6 ماہ قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔
کسی بھی قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ٹیبل ہونے سے پہلے نشر یا شائع کرنے پر صحافی کو 3 ماہ تک قید اور 3 لاکھ تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
علاوہ ازیں تحریک التوا ٹیبل ہونے سے قبل نشر یا شائع کرنے پر ایک ماہ تک قید اور ایک لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا۔
واضح رہے اپریل میں اضافی ایجنڈے کے ذریعے منظور کرائے گئے قانون کو کئی ماہ تک چھپایا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے بل پر 6 مئی کو منظوری دستخط کیے تھے۔
اس حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا بل نہیں ہے ہہ پیپلز پارٹی نے پیش کیا ہے تھا۔
وزیراعلٰی اس بل کی منظوری سے خوش نہیں اور یہ واپس ہوجائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب ہم اسمبلی میں تھے تو اسکو لاگو نہیں کیا گیا تھا اب یہ بل منظور ہوا ہے۔
نیلے پاسپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیڈرل گورنمنٹ کا اختیار ہے۔


