چارسدہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف عالم دین اور سابق ایم پی اے شیخ الحدیث مولانا ادریس شہید ہوگئے، پولیس حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے مولانا ادریس کو ان کی گاڑی میں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ دارالعلوم اتمانزئی درس کیلئے جا رہے تھے ، فائرنگ سے مولانا ادریس موقع پر شہید ہوگئے ۔
چارسدہ: پولیس حکام کے مطابق واقعہ اتمانزئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کے ساتھ موجود دو گن مین شدید زخمی ہوئے ہیں ۔
پولیس حکام نے بتایا کہ مولانا ادریس کی نعش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے، جبکہ واقعہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں ۔
دوسری جانب آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ملزمان کی فوری گرفتاری کیلئے احکامات جاری کردیے، انہوں نے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا ۔
گورنر خیبر پختونخوا نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو صرف صوبہ ہی نہیں بلکہ ملک کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں صدرِ مملکت نے کہا کہ ایسے بزدلانہ دہشت گرد حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، وطنِ عزیز سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم مضبوط اور غیر متزلزل ہے ۔


