کشمیری حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صحافت اور میڈیا کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور دباؤ میں ہے، 1990 سے اب تک جدوجہد آزادی میں 22 صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران جان بحق ہوگئے ہیں ۔
مظفرآباد: حریت رہنما عبدالحمید لون نے کہا ہے کہ کشمیر میں میڈیا سے وابستہ افراد انتہائی مشکل حالات میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیے رہےہیں، 1990 سے اب تک جدوجہد آزادی میں 22 صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے دوران جان بحق ہوگئے ہیں۔
عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کا آزادانہ طور پر کام کرنا انتہائی مشکل ترین ہے، بھارتی ایجنسیوں اور فوج کی جانب سے صحافیوں کو ہراساں کرنے ان کے گھروں میں چھاپے مارنے اور ان سے پوچھ گچھ کے واقعات معمول بن چکے ہیں ۔
انہوں نے یہ کہا کہ متعدد کشمیری صحافیوں کے خلاف دہشت گردی ، بغاوت اور غلط خبریں پھیلانے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، مقبوضہ کشمیر کے متعدد صحافیوں کو کالے قوانین کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ہے ۔
حریت رہنما کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں کشمیر کے ایک درجن سے زائد صحافی خوف اور دباؤ کی وجہ سے وادی چھوڑ چکے ہیں، بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں میڈیا پر عائد قدغنوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔


