اسلام آباد: قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے کی موجودہ صورتحال پر کفایت شعاری اقدامات کا اعلان کردیا ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خلیجی ملکوں پر حملوں سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں ان ملکوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہے، پاکستان ان ملکوں کی سلامتی کو اپنی سلامتی کا حصہ سمجھتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 60 سے بڑھ کر 100 ڈالرز سے تجاوز کرچکی ہے، ہماری معیشت کا انحصار خلیج سے آنے والے تیل اور گیس پر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے مشکل فیصلے کیے ہیں، عالمی منڈی میں تیل گیس کی قیمتوں کا تعین پاکستان کے اختیار میں نہیں ہے، حکومت نے توانائی بحران کم کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ہیں۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود معیشت کو مستحکم رکھا جائے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ مشکل اور دل پر پتھر رکھ کر کیا گیا، دماغ کہتا تھا کہ تیل کی قیمت میں اضافے کے سوا آپشن نہیں لیکن دل کہتا تھا کہ کہیں تیل کی قیمت میں اضافے سے غریب عوام پر بوجھ نہ بڑھے۔
حکومت کے کفایت شعاری، بچت سے متعلق اہم فیصلے: ۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے توانائی کی بچت، عوامی، ریلیف اور کفایت شعاری اور سادگی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے ہیں ۔
1: آئندہ دو ماہ کیلیے سرکاری محکموں کی گاڑیوں کا پیٹرول کوٹہ 50 فیصد کم، ایمبولینس اور عوامی بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا ۔
2: ایندھن کی بچت کیلیے تمام سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے ۔
3: دو ماہ کیلیے کابینہ اراکین، وزرا، مشیران اور معاونین تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ اراکین کی تنخواہوں سے 25 فیصد کٹوتی ہوگی ۔
4: وزیراعظم نے کہا کہ 20 گریڈ اور اوپر کے افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ سے زائد اُن کی دو روز کی کٹوتی کر کے عوامی ریلیف کیلیے استعمال کی جائے گی ۔
5: تمام سرکاری محکموں کی تنخواہوں کے علاوہ اخراجات میں 20 فیصد کمی کی جارہی ہے جبکہ گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
6: وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزرا، مشیران اور دیگر کے بیرون ملک دوروں پر پابندی عائد جن کا اطلاق چاروں صوبوں کے گورنرز پر بھی ہوگا تاہم ناگزیر دوروں کی اجازت ہوگی ۔
7: سرکاری سطح پر آن لائن میٹنگ کو ترجیح دی جائے گی جس سے ایندھن کی بچت ہوسکے گی ۔
8: سرکاری عشائیوں اور افطار پارٹیز پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے ۔
9: سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے سیمینارز اور کانفرنسز ہوٹلز کے بجائے سرکاری دفاتر میں ہوں گی ۔
ایندھن اور توانائی کی بچت کیلیے اہم فیصلوں کا اعلان: ۔
انتہائی ضروری سروسز کو چھوڑ کر باقی تمام جگہوں پر 50 فیصد سٹاف گھر سے کام (ورک فراہم ہوم) کرے گا جبکہ دفاتر ہفتے میں 4 دن کھلیں گے اور ایک اضافی چھٹی ہر ہفتے دی جائے گی ۔
بینکس، صنعت، زراعت کے شعبوں پر ورک فرام ہوم اور ہفتے میں اضافی چھٹی کا اطلاق نہیں ہوگا ۔
وزیراعظم کے مطابق فوری طور پر تمام اسکولوں کو دو ہفتوں کیلیے بند کردیا گیا ہے جبکہ ہائیرایجوکیشن کے تمام اداروں میں آن لائن کلاسوں کا آغاز کیا جارہا ہے ۔
وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں، پیٹرول اور ڈیزل کے ناجائز منافع خوروں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس صورت حال سے ہر گز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ قانون کا آہنی ہاتھ حرکت میں آئے گا، بلا امتیاز کارروائی ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کو نئے چلینج کا سامنا ہے ، طاقت کے توازن بدل رہے اور اتحاد بن رہے ہیں، پاکستان نازک ترین موڑ پر ہے جس میں اتحاد، اخوات اور قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ہمیں صبر اخوات، ایثار، اجتماعی ذمہ داری کا درس دیتا اور یاد دلاتا ہے کہ مضبوط باوقار قوم وہ وہتی ہے جو مشکل کی گھڑی میں تدبر، صبر، حکمت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھتی ہے، مقصد بلند اور نیت نیک ہو تو اللہ کی مدد ضرور ملتی ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی شہادت پر پاکستان گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے، ایران پر ہونیوالے اسرائیلی حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین اور دیگر ملکوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں ۔


