بالاکوٹ (خصوصی رپورٹر) — بالاکوٹ میں ایک نوجوان شہریار پر مبینہ پولیس تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حکام نے کارروائی شروع کر دی ہے۔
مضروب نوجوان کے بھائی کے مطابق شہریار ولد سعید اللہ رات تقریباً 11:50 بجے پارس سے مانسہرہ جا رہا تھا کہ بالاکوٹ پولیس نے ہائی اسکول بالاکوٹ کے قریب انہیں روک کر شناختی کارڈ طلب کیا۔ شہریار کے ہمراہ اس کا بڑا بھائی اور ایک دوست بھی موجود تھے۔
اہل خانہ کے مطابق شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد پولیس شہریار کو تھانے لے گئی جہاں مبینہ طور پر پانچ سے چھ اہلکاروں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اسے تھانے سے باہر پھینک دیا گیا اور اس کے بھائی کو کہا گیا کہ اسے لے جائیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ باہر نکلتے وقت شہریار چلنے کے قابل نہیں تھا اور اس کا بازو بھی متاثر ہوا تھا۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ڈی پی او مانسہرہ محمد اظہر خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی۔ تشدد میں مبینہ طور پر ملوث دو پولیس اہلکاروں، قدیر اور عبداللہ شاہ، کو معطل کر کے پولیس لائن کلوز کر دیا گیا ہے۔ دونوں اہلکاروں کو چارج شیٹ جاری کر دی گئی ہے اور ان کے خلاف باقاعدہ محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ڈی پی او مانسہرہ کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل بلاامتیاز جاری رہے گا، قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور شفاف انکوائری کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


