آزاد جموں و کشمیر پولیس میں انسپکٹر جنرل کے عہدے پر نسبتاً جونیئر افسر کی تعیناتی کے بعد ادارے کے اندر سینیارٹی اور میرٹ سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ 6 سینیئر ڈپٹی انسپکٹر جنرلز نے باضابطہ طور پر وزیراعظم سے رجوع کر لیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے پی ایس پی کے گریڈ 20 کے افسر ریٹائرڈ کیپٹن لیاقت علی ملک کو آزاد جموں و کشمیر کا آئی جی پی تعینات کیا گیا تھا،۔لیاقت علی ملک کی تقرری 1949 کے معاہدہ کراچی کی شق ہشتم کے تحت عمل میں آئی، جنہوں نے منگل کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد جمعرات کو وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور سے ملاقات بھی کی۔
آزاد کشمیر پولیس کے 6 سینیئر ڈی آئی جیز نے وزیراعظم کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کی سروس مدت زیادہ، تعلیمی اسناد اعلیٰ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر تجربہ وسیع ہے۔ان کے مطابق نسبتاً جونیئر افسر کو اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کرنا سروس روایات سے انحراف ہے جس سے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور کمانڈ اسٹرکچر متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب چیف سیکریٹری خوشحال خان نے وضاحت کی کہ صوبائی پولیس سروسز کے برعکس آزاد کشمیر پولیس سروس کی سینیارٹی اور کیڈر اسٹرکچر پی ایس پی کے ساتھ منسلک نہیں ہے۔


