گلگت بلتستان میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور گلگت میں خصوصی سی ٹی ڈی پولیس اسٹیشن قائم کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان پولیس کے بیان کے مطابق سی ٹی ڈی نے 250 افسران و اہلکاروں کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، جبکہ یونٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے رواں سال کے دوران مزید 600 آسامیوں پر بھرتی مکمل کی جائے گی۔ اہلکاروں کی بنیادی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت میں اضافے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا سے معاونت حاصل کی جائے گی۔ایس ایس پی تنویر الحسن کو سی ٹی ڈی گلگت بلتستان کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی سے متعلق اب تک درج تمام مقدمات گلگت میں قائم سی ٹی ڈی تھانے کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
ایس ایس پی کے مطابق سی ٹی ڈی کے چار ونگز ہوں گے جن میں انویسٹی گیشن، انٹیلی جنس اور آپریشنز شامل ہیں، اور ادارہ خطے بھر میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی نگرانی کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع دیامر کی تحصیل تانگیر میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی گاڑی پر ہونے والے حالیہ حملے کا مقدمہ بھی سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں گلگت بلتستان میں سی ٹی ڈی کے قیام کی منظوری دی تھی اور 613 نئی آسامیوں کی اجازت دی گئی۔


