پاکستانی معاشرے میں تشدد کے تجربے کو سمجھنے کے لیے اب یہ کافی نہیں رہا کہ صرف واقعات گنوائے جائیں یا اعداد و شمار پیش کیے جائیں۔ اصل سوال یہ بن چکا ہے کہ ان واقعات کو کس زبان میں بیان کیا جا رہا ہے، اور وہ زبان اجتماعی سطح پر کن سماجی و سیاسی رویّوں کو معمول بنا رہی ہے۔ جب کسی معاشرے میں ایک مخصوص طبقے کے لیے جان کا تحفظ غیر یقینی ہو جائے اور اس عدم تحفظ کو مسلسل صبر، اجر اور شہادت کے الفاظ میں معنی دیے جائیں، تو تشدد محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ شہری زندگی کے تصور سے جڑ جاتا ہے۔ اسی تناظر میں ’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ کا تصور سامنے آتا ہے—یعنی وہ حالت جہاں موت اخلاقی انتخاب نہیں بلکہ شہری وجود کی متوقع قیمت بن جائے۔
تاریخی اور مذہبی روایت میں شہادت کو ہمیشہ ایک غیر معمولی اخلاقی مقام حاصل رہا ہے۔ اسے ظلم کے مقابلے میں شعوری انکار، اصولی استقامت اور رضاکارانہ قربانی کے طور پر سمجھا گیا ہے۔ کربلا کی روایت اسی لیے اخلاقی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ وہاں قربانی جبر کا نتیجہ نہیں بلکہ انتخاب کا اظہار ہے۔ تاہم جدید قومی ریاست کے تناظر میں—جہاں شہری کے تحفظ، انصاف تک رسائی اور مساوی حقوق بنیادی اصول مانے جاتے ہیں—یہ سوال شدت اختیار کر لیتا ہے کہ اگر موت ایک معمول بن جائے تو کیا اسے اسی اخلاقی عظمت کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے؟
جدید ریاست شہری اور ریاست کے درمیان ایک ذمہ دارانہ معاہدے کی نمائندہ ہوتی ہے۔ شہری وفاداری، اطاعت اور ٹیکس فراہم کرتا ہے، جبکہ ریاست اس کے بدلے جان، وقار اور حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ جب اس معاہدے میں توازن بگڑ جائے اور تشدد ایک مستقل امکان بن جائے، تو قربانی اور شہادت جیسے تصورات اپنی اصل معنویت سے ہٹ کر ایک سماجی بیانیے میں ڈھل جاتے ہیں۔ اس صورت میں شہادت ایک غیر معمولی اخلاقی انتخاب کے بجائے ایک متوقع انجام محسوس ہونے لگتی ہے، اور شہری تحفظ کا سوال پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں شیعہ شہریوں کا تجربہ اس تبدیلی کو نہایت وضاحت سے نمایاں کرتا ہے۔ عبادت گاہوں، مذہبی جلوسوں اور روزمرہ شہری سرگرمیوں کو نشانہ بنانے والے حملے—چاہے وہ پاراچنار میں ہوں، کوئٹہ، شکرگڑھ اور شکارپور میں، یا حالیہ دنوں میں، برسوں نہیں، اسلام آباد میں ایک مسجد پر—اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عدم تحفظ اب کسی استثنائی صورت کے بجائے ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹنگ کے مطابق، ایسے واقعات کے بعد ریاستی ردِعمل اکثر محدود، تاخیری یا محض علامتی رہا ہے، جبکہ متاثرہ برادری کو نہ فوری تحفظ میسر آیا ہے اور نہ ہی مستقل انصاف۔
ان حالات میں اجتماعی گفتگو اکثر صبر، اجر اور شہادت کے گرد منظم ہو جاتی ہے۔ یہ بیانیہ متاثرہ طبقے کو حوصلہ، شناخت اور بقا کا احساس فراہم کرتا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک خاموش سوال بھی جنم لیتا ہے: شہری جان کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داری کا مطالبہ کہاں کھڑا ہے؟ جب تشدد کے بعد مرکزی بیانیہ شہری حقوق کے بجائے قربانی پر مرکوز ہو جائے تو شہری حیثیت بتدریج علامتی بننے لگتی ہے۔
فرقہ وارانہ تشدد کو محض مذہبی اختلافات کا نتیجہ سمجھنا سماجی حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم اور انسانی حقوق کی رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ ایسا تشدد سیاسی ترجیحات، طاقت کے ڈھانچوں، ریاستی پالیسیوں کے عدم تسلسل اور بعض اوقات ادارہ جاتی خاموشی کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔ جب تشدد بار بار ایک ہی شناخت کو نشانہ بنائے اور ریاستی ردِعمل غیر مستقل رہے، تو متاثرہ گروہ میں یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ اس کی شہری حیثیت عملی طور پر کم زور ہو چکی ہے۔
ایسے حالات میں مذہبی بیانیہ ایک خاص سماجی کردار ادا کرنے لگتا ہے۔ مذہبی تقاریر اور مجالس میں یہ جملے کثرت سے سننے کو ملتے ہیں کہ شہادت ہماری میراث ہے، قربانی فخر ہے، اور وطن کے لیے جان دینا اعلیٰ ترین درجہ رکھتا ہے۔ یہ جملے تاریخی وابستگی اور وفاداری کے اظہار کے طور پر اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جب یہ بیانیہ مسلسل دہرایا جائے اور ساتھ ہی شہری تحفظ، احتساب اور ریاستی ذمہ داری کے سوالات پس منظر میں چلے جائیں، تو قربانی ایک اخلاقی چوٹی کے بجائے ایک قابلِ قبول معمول بننے لگتی ہے۔
سماجی نفسیات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے بیانیے فوری تسلی فراہم کرتے ہیں۔ غم کو معنی مل جاتا ہے، خوف کو وقار میں بدلا جاتا ہے اور نقصان کو اخلاقی عظمت کے پردے میں ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ مگر اس تسلی کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے۔ جب شہادت کو مسلسل مرکزی مقام دیا جائے تو سوال اٹھانے، احتساب کا مطالبہ کرنے اور ریاستی ذمہ داری پر اصرار کرنے کی روایت کم زور پڑنے لگتی ہے۔ اس مرحلے پر شہادت ایک اخلاقی استثنا کے بجائے ایک تسکینی آلے میں تبدیل ہو جاتی ہے، جو درد کو محسوس ہونے سے پہلے ہی معنی میں لپیٹ دیتا ہے۔
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مسئلہ مذہب یا مذہبی قیادت کی نیت کا نہیں بلکہ بیانیے کے اجتماعی اثرات کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ریاست تشدد کو وقتی یا غیر معمولی واقعہ قرار دے کر اس کی ساختی نوعیت سے نظریں چرا لے، تو مذہبی تعبیرات اس خلا کو پُر کر دیتی ہیں۔ یہ تعبیرات فوری معنی تو فراہم کر دیتی ہیں، مگر دیرپا تحفظ، انصاف یا شہری برابری کی ضمانت نہیں بنتیں۔ یوں تشدد ایک عارضی بحران کے بجائے ایک مستقل سماجی پس منظر بن جاتا ہے۔
اس تناظر میں ’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ کا تصور ایک بنیادی سماجی سوال کو سامنے لاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حالت ہے جس میں قربانی کسی آزاد اور رضاکارانہ اخلاقی فیصلے کے بجائے ایسے حالات کا نتیجہ بن جائے جہاں جان کا تحفظ پہلے ہی غیر یقینی ہو چکا ہو۔ جب کسی مخصوص گروہ کے لیے موت ایک مستقل امکان کے طور پر قبول کر لی جائے تو شہادت اپنی اخلاقی انفرادیت کھو دیتی ہے اور شہری معاہدے کی کم زوری کی علامت بن جاتی ہے۔
یہاں وطن پر جان دینا اور جان سے محروم کر دیا جانا دو مختلف تصورات ہیں۔ پہلی صورت میں قربانی ایک شعوری اور اخلاقی فیصلہ ہوتی ہے؛ دوسری صورت میں یہ ریاستی ناکامی، سماجی بے حسی یا منظم تشدد کا نتیجہ بنتی ہے۔ ان دونوں کو یکساں اخلاقی درجے پر رکھنا فکری احتیاط کے منافی ہے۔ حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ شہری خاموشی سے مرنے کو تیار ہو، بلکہ یہ کہ وہ اپنی جان، وقار اور حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرے۔
یہ بحث شہادت کے مذہبی یا روحانی مفہوم کی نفی نہیں کرتی۔ سوال اس تصور کے سماجی اور سیاسی استعمال کا ہے۔ ایک صحت مند ریاست میں شہادت غیر معمولی ہوتی ہے، معمول نہیں۔ اگر کسی سماج میں قربانی کو واحد بیانیہ بنا دیا جائے تو یہ شہری شعور کو محدود اور ریاستی ذمہ داری کو غیر مرئی بنا دیتی ہے۔
’’مسلط کی گئی شہادت‘‘ پر سنجیدہ غور و فکر ہمیں اس امکان کی طرف لے جاتا ہے کہ شہادت کو دوبارہ اس کے اصل تناظر میں دیکھا جائے—یعنی ظلم کے خلاف ایک غیر معمولی اخلاقی موقف کے طور پر، نہ کہ ایک متوقع انجام کے طور پر۔ یہ سوال کسی ایک مذہبی گروہ تک محدود نہیں، بلکہ مجموعی طور پر شہری ریاست، شہری حقوق اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔


