خیبر پختونخوا میں کابینہ کی حالیہ توسیع کے بعد حکومتی صفوں میں اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے باعث صوبائی حکومت کو بجٹ کی منظوری میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق فارورڈ بلاک کی سرگرمیوں نے حکومتی معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
کابینہ میں توسیع کے بعد تقریباً ایک درجن حکومتی اراکین کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید شروع کر دی ہے۔ بعض اراکین نے مالی معاملات پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے شکایت کی ہے کہ وسائل کے استعمال کے باوجود انہیں مناسب مراعات نہیں دی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیمی سطح پر پارٹی صوبے میں کمزور پوزیشن اختیار کر چکی ہے۔ وفاق کے ساتھ صوبے کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند نہیں کی جا رہی، جبکہ احتجاجی سیاست میں بھی پارٹی کا کردار غیر واضح دکھائی دے رہا ہے۔
دوسری جانب، بعض اہم شخصیات بشمول پختون یار جیسے کابینہ اراکین اور سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور بدستور اپنے مؤقف پر قائم ہیں، جس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف بجٹ کی منظوری متاثر ہو سکتی ہے بلکہ حکومتی استحکام بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔


