اسلام آباد: گندم مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے صدارت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ یقینی بنانے کے لیے مؤثر سپورٹ پرائس ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسانوں کو معاشی طور پر مستحکم بنانے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ہدفی سبسڈی ناگزیر ہے۔
گندم کی قیمت کا تعین کسانوں کی پیداواری لاگت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملکی ضروریات پوری کرنے اور غذائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے گندم کی وافر پیداوار ہماری ترجیح ہے۔
گندم کی قیمت کے تعین پر وفاق اور صوبوں کے درمیان قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے گندم خریداری کا شفاف اور مؤثر نظام یقینی بنانا ہوگا۔
ملک میں گندم کی بلاتعطل دستیابی کے لیے مناسب سٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو مناسب نرخوں پر فراہمی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ جامع گندم مینجمنٹ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔


