اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی عبوری حکومت کی اعلیٰ قیادت پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ان پابندیوں کا اطلاق وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند، نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی، وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی اور مولوی عبدالسلام حنفی سمیت بائیس اعلیٰ رہنماؤں پر کیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کے اس فیصلے کے تحت ان رہنماؤں پر بین الاقوامی سطح پر سفر کرنے پر پابندی عائد ہوگی، جبکہ رکن ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کو کسی بھی قسم کے مالی وسائل، اسلحہ یا جنگی سازوسامان فراہم نہ کریں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے یہ اقدام افغان طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ وہ عالمی برادری کے مطالبات کو پورا کریں۔ واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے باوجود افغان طالبان کی حکومت کو تاحال عالمی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان پابندیوں سے افغانستان کی موجودہ حکومت کو سفارتی اور اقتصادی سطح پر مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے مستقبل میں مزید اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔


