یہ بات سائنس فکشن جیسی لگتی ہے، لیکن برطانیہ کے شہر کارڈف میں قائم ایک کمپنی خلا میں فیکٹری بھیجنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ کمپنی اسپیس فورج نے مائیکروویو کے سائز کی ایک چھوٹی فیکٹری زمین کے مدار میں بھیجی ہے۔
اس فیکٹری میں موجود بھٹی کو کامیابی سے آن کیا گیا، جو تقریباً ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی کا مقصد خلا میں سیمی کنڈکٹرز تیار کرنا ہے، جو موبائل فون، کمپیوٹر، مواصلاتی نظام اور گاڑیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلا میں وزن نہ ہونے اور مکمل خلا (ویکیوم) کی وجہ سے سیمی کنڈکٹرز زیادہ خالص اور بہتر معیار کے بنائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں بننے والے یہ مادے زمین پر بننے والے سیمی کنڈکٹرز کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ خالص ہو سکتے ہیں۔
اسپیس فورج کے سی ای او جوش ویسٹرن کے مطابق یہ سیمی کنڈکٹرز فائیو جی ٹاورز، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز اور جدید ہوائی جہازوں میں استعمال ہوں گے۔
یہ چھوٹی فیکٹری گرمیوں میں اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجی گئی تھی، اور اس کے تمام نظام کارڈف میں موجود کنٹرول روم سے چلائے جا رہے ہیں۔
کمپنی اب مستقبل میں ایک بڑی خلائی فیکٹری بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو ہزاروں چپس کے لیے مواد تیار کر سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ خلا میں تیار ہونے والا مواد زمین پر محفوظ طریقے سے واپس لانے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں فیکٹریاں بنانا اب ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے اور مستقبل میں خلا میں تیار ہونے والی چیزیں زمین پر انسانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔


