اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پنڈی گھیب میں قتل اور دہشت گردی کے ایک اہم مقدمے میں نامزد ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے جاری کردہ تحریری فیصلے میں عدالتِ عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کے وہ فیصلے کالعدم قرار دے دیے جن کے تحت ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمان کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد نہیں تھے، جبکہ شناخت کا عمل بھی مشکوک پایا گیا۔ مزید یہ کہ گواہان کی موقع پر موجودگی اور اتنے بڑے حملے میں ان کا محفوظ رہنا غیر فطری معلوم ہوتا ہے، اس لیے شناخت پریڈ کو قانونی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ شناخت پریڈ سے قبل ہی ملزمان کی شناخت پولیس کے سامنے ظاہر ہو چکی تھی، جس سے اس عمل کی قانونی حیثیت متاثر ہوئی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے ایک دوسرے کیس میں پنڈی گھیب واقعے کا اعتراف کیا تھا، تاہم اس کیس میں وہ پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، جس کے بعد یہ اعتراف بھی غیر مؤثر ہو گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف مضبوط اور آزاد شواہد پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا، لہٰذا انہیں بری کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ یکم مئی 2011 کو پنڈی گھیب میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں سب انسپکٹر محمد رمضان سمیت 6 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ ملزمان پر آئل ٹینکرز کو آگ لگانے اور سرکاری اسلحہ چھیننے کے الزامات بھی عائد تھے۔
ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو متعدد بار سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں، جبکہ ہائیکورٹ نے ان سزاؤں کو برقرار رکھا تھا، تاہم اب سپریم کورٹ نے ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔


