اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو عناصر اسکول کے بچوں اور مساجد میں عبادت کرنے والوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، وہ اسپتالوں میں موجود مریضوں کو نقصان پہنچانے اور پھر اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کو واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے روابط افغانستان سے جڑے ہوئے ہیں، اور حالیہ کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انفرااسٹرکچر کے خلاف کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ضروری ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے اسپتال پر حملے کا دعویٰ ایک من گھڑت کہانی ہے۔ جہاں کارروائی کی گئی وہاں اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا، اور وہاں ہونے والے دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آپریشن غضب للحق” کے اہداف بالکل واضح اور مخصوص تھے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں فضائی کارروائیاں کیں، جن میں اسلحہ کے ذخائر اور تکنیکی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک مرکز پر حملے میں 400 افراد ہلاک ہوئے، تاہم پاکستان نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔


