اسلام آباد (مبارک علی): مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ غیر مستحکم صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بڑھتے ہوئے خدشات نے پاکستان کی بندرگاہوں، کراچی اور گوادر کو عالمی تجارت کے محفوظ ترین متبادل کے طور پر ابھار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان اب محض ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ بحیرہ عرب میں ایک ‘نیٹ سیکیورٹی سٹیبلائزر’ کا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
تاریخی طور پر، گوادر کا سفر 1783 میں مسقط کو تحفے میں دیے جانے سے لے کر 1958 میں پاکستان کی جانب سے اس کی خریداری تک انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ آج یہ دنیا کی گہری ترین قدرتی بندرگاہوں میں شامل ہے، جس کی 14.5 میٹر گہرائی اسے بڑے بحری جہازوں کے لیے موزوں بناتی ہے۔ مستقبل میں اس کی گہرائی 24 میٹر تک بڑھانے کا منصوبہ اسے عالمی ٹرانسپورٹیشن ہب میں تبدیل کر دے گا۔
اقتصادی اعشاریے بتاتے ہیں کہ کراچی پورٹ نے حال ہی میں ٹرانس شپمنٹ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا ہے، جہاں محض 24 دنوں میں گزشتہ پورے سال سے زیادہ کارگو ہینڈل کیا گیا۔ یہ ترقی سی پیک (CPEC) فیز 2 کے تحت ہونے والی 8.5 بلین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔
سٹریٹجک لحاظ سے، گوادر آبنائے ہرمز سے محض 400 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔ ایران اسرائیل کشیدگی جیسے بحرانوں کی صورت میں، پاکستان کی بندرگاہیں چین اور وسطی ایشیا کے لیے توانائی کی ترسیل کا واحد محفوظ راستہ فراہم کرتی ہیں۔ بلوچستان میں کامیاب سیکیورٹی آپریشنز اور پاک بحریہ کے فعال کردار نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔
اگر پاکستان نے انفراسٹرکچر کی تکمیل اور پالیسیوں کے تسلسل جیسے درست فیصلے بروقت جاری رکھے، تو کراچی اور گوادر کی جوڑی نہ صرف پاکستان کی معاشی شہہ رگ ثابت ہوگی بلکہ عالمی تجارت کا نیا محور بن کر ابھرے گی۔


