ایران کی مسلح افواج کی متحدہ کمان نے کہا ہے کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں واقع بندرگاہیں سب کے لیے ہیں یا کسی کے لیے بھی نہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ ایران اپنی سمندری حدود اور خودمختاری کو اپنے عوام کا قانونی اور فطری حق سمجھتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مسلح افواج نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قانونی حقوق کے دفاع کو ایک بنیادی ذمہ داری سمجھتا ہے اور اس پر مکمل عمل کیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بناتا رہے گا، تاہم دشمن سے وابستہ کسی بھی بحری جہاز کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایرانی فوج کے مطابق دیگر ممالک کے جہاز ایران کے قوانین اور ضوابط کے تحت آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں۔ تاہم نگرانی اور کنٹرول کا سخت نظام ہمیشہ نافذ رہے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلسل دھمکیوں کے باوجود ایران اپنے بحری راستوں کے دفاع کے لیے سخت اور مستقل حکمت عملی جاری رکھے گا۔
ایرانی مسلح افواج نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی آمد و رفت کو روکنا غیر قانونی اقدام ہے اور اسے سمندری قزاقی کے مترادف قرار دیا گیا۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں یا سمندری سیکیورٹی کو خطرہ پہنچایا گیا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں کسی بھی بندرگاہ کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے دوبارہ واضح کیا کہ خطے میں بحری راستوں کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی جارحیت کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور سخت فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ ان جہازوں کو روکے گی جو ایران کو کسی بھی قسم کی فیس یا ٹول ادا کریں گے اور بین الاقوامی پانیوں میں سخت اقدامات کیے جائیں گے۔


