برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا ہے، پاکستان کا پیش کردہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے، پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں مستقل معاہدہ ہو گا۔
اس منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوری نفاذ کے ساتھ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، پاکستان اس عمل میں واحد رابطہ چینل کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، عسکری قیادت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ممکنہ معاہدے کو اسلام آباد اکارڈ کا نام دیا جا رہا ہے، معاہدے کے تحت 45 روزہ جنگ بندی بھی زیر غور ہے۔
قبل ازیں امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔


