قطر میں اسلامی امارت کے سفیر سہیل شاہین نے بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں مگر وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب پاکستان نے سفارت کاری کی بجائے فوجی راستہ اختیار کر لیا ہے۔
سہیل شاہین نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان سے توقع رکھتا ہے کہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں عدم تحفظ کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے، لیکن ایسی مکمل ضمانت دینا حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ کسی بھی ملک کا یہ دعویٰ کرنا ممکن نہیں کہ وہ دوسرے ملک کی مکمل سلامتی کی ضمانت دے سکے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان پاکستان کو ایک تحریری خط دے کر یقین دہانی کرا سکتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کسی قسم کے نقصان یا دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
سفیر شاہین نے کہا کہ ہم پاکستان کو لکھ کر دے سکتے ہیں کہ افغان مٹی سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہ تحریری یقین دہانی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال کرنے کا ایک اہم قدم ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امارتِ اسلامیہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، مگر پاکستان کی جانب سے فوجی آپشن کا انتخاب تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔
افغان حکام کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ وہ بات چیت اور تحریری معاہدوں کے ذریعے مسائل حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سہیل شاہین نے مزید کہا کہ اگر پاکستان بھی سفارتی راستہ اپنائے تو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں مثبت نتائج نکل سکتے ہیں۔


