اسلام آباد: وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ایمرجنسی لگائی گئی۔
صوبے میں بے گناہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ اور کے پی حکومت کی غیر سنجیدگی دیکھ کر یہ اقدام اٹھانا پڑا۔
غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑنے کہا کہ صدر پاکستان نے آئین کی دفعات 232 اور 234 کے تحت اختیارات استعمال کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین بنیادی دستاویز ہے جو ریاست کے نظامِ حکومت اور مختلف حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار کا تعین کرتی ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اس تناظر میں وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے وفاقی نظاموں میں داخلی بدامنی سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور ریاستی حکومتیں مل کر کام کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے 3 سالوں میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا۔
وزیر قانون نے کہا کہ کئی بار خیبر پختونخوا حکومت سے اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی گئی۔
کے پی حکومت کو کہا گیا کہ وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لائے، لیکن انہوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور طرز حکمرانی کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی تھی۔
ہمارا واحد مقصد دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی بنانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں 2 خارجہ پالیسیاں نہیں ہو سکتیں، نہ ہی دہشت گردی کے خلاف دو الگ پالیسیاں چل سکتی ہیں۔
کے پی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادتیں ہوئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متاثرہ خاندانوں کا عزم اور حوصلہ قابل تحسین ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ کے پی حکومت نے ایک بار بھی دہشت گردی کی مذمت نہیں کی۔
خیبرپختونخوا کو قومی مالیاتی کمیشن کے تحت 2010 سے اب تک تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے گئے۔
وفاقی وزراء نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے خلاف پی ٹی آئی کی عوامی سطح پر بڑے احتجاج کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔
وفاقی وزراء نے کہا کہ صوبے کے عوام کو امید ہے کہ نئے انتظامی اقدامات سے ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔


