اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ درآمدی گندم کا معیار صوبوں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، جبکہ اسے صوبائی ضروریات کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
گندم درآمد کرنے کا فیصلہ فیڈرل ویٹ بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی، جبکہ چاروں صوبوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں ملک میں گندم کی دستیابی، سرکاری ذخائر، طلب اور صوبائی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران صوبوں کو اپنی مکمل ضروریات تحریری طور پر وفاقی حکومت کو فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبوں کی مجموعی طلب پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن، یعنی پاسکو، کے دستیاب ذخائر سے زیادہ ہے۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گندم کی درآمد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم، صوبوں سے حتمی تحریری ضروریات ملنے کے بعد تقسیم کا طریقۂ کار مرتب کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کے مطابق، درآمدی گندم کا معیار صوبوں کی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد صوبوں کو ان کی ضرورت کے مطابق معیاری گندم فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ درآمدی گندم صوبوں کے درمیان منصفانہ انداز میں تقسیم کی جائے گی۔ تقسیم کے دوران ہر صوبے کی ضرورت اور دستیاب سرکاری ذخائر کو مدنظر رکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر سے منسوب اجلاس کی تفصیلات
حکومت کے مطابق، گندم درآمد کرنے کا مقصد ملک میں اس کی مسلسل فراہمی برقرار رکھنا اور مقامی مارکیٹ کو مستحکم کرنا ہے۔ اس اقدام سے صوبوں کی ضروریات پوری کرنے اور گندم و آٹے کی دستیابی بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
وفاقی حکومت نے اس سے قبل بھی اعلان کیا تھا کہ پاسکو کے موجودہ ذخائر صوبوں کو ان کی ضروریات کے مطابق فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم، سرکاری ذخائر ناکافی ہونے کے باعث اضافی گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔


