اسلام آباد: کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی، زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
امن اور علاقائی استحکام کا ضامن کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن اور تنازعات کے حل کے لیے جامع طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے پر یکطرفہ عملدرآمد معطل کرنا غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
اُن کے مطابق پاکستان بارہا دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق ضروری ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکا ہے یہ معلومات نشیبی علاقوں میں واقع پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
سید مہر علی شاہ نے مزید کہا کہ بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑنے اور چناب۔بیاس لنک کی تعمیر جیسے اقدامات سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔


