صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے منظوری کے بعد فنانس بل باقاعدہ ایکٹ بن گیا،وفاقی بجٹ پر یکم جولائی سے عملدرآمد بھی شروع ہو جائے گا ۔
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد منظور شدہ فنانس بل وزارت پارلیمانی امور کو واپس موصول ہو گیا ہے، صدر کی منظوری کے ساتھ ہی فنانس بل قانونی حیثیت اختیار کرتے ہوئے فنانس ایکٹ 27-2026 بن گیا ہے ۔
18 ہزار ارب روپے سے زائد حجم کے وفاقی بجٹ پر یکم جولائی 2026 سے باقاعدہ عملدرآمد شروع ہو جائے گا، بجٹ میں شامل مختلف مالیاتی اقدامات بھی اسی تاریخ سے نافذ ہوں گے ۔
فنانس ایکٹ کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اطلاق بھی یکم جولائی سے ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ٹیکسوں، ڈیوٹیز اور مالیاتی پالیسیوں میں کی گئی ترامیم بھی نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ نافذ العمل ہو جائیں گی ۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں شامل اقدامات کا مقصد معیشت کو مستحکم بنانا، محصولات میں اضافہ کرنا اور مالی نظم و ضبط کو فروغ دینا ہے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف ملے گا ۔
فنانس ایکٹ 27-2026 کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نئے مالی سال کے اہداف کے حصول کے لیے بجٹ میں شامل ترقیاتی اور مالیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز کرے گی ۔


