لندن: برطانیہ اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر ہاؤس آف لارڈز میں ہونے والی بحث کے دوران لارڈ قربان حسین نے اس معاہدے میں انسانی حقوق سے متعلق مخصوص شق کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بحث کے دوران خطاب کرتے ہوئے لارڈ قربان حسین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ معاہدے میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا اس معاہدے میں انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق بھی کوئی شق شامل ہے یا نہیں۔
انہوں نے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا برطانوی حکومت بھارت میں انسانی حقوق کے مسائل کو جانوروں کے تحفظ سے کم اہم سمجھتی ہے۔
لارڈ قربان حسین نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق بھارت کے ساتھ ہمارے آزاد تجارتی معاہدے میں جانوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق ایک خصوصی شق شامل ہے، جو یقیناً اچھی بات ہے۔
لیکن کیا اس میں انسانی حقوق سے متعلق بھی کوئی شق شامل کی گئی ہے؟ اگر نہیں، تو کیا برطانوی حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ بھارت میں انسانی حقوق جانوروں کے حقوق سے کم اہم ہیں؟”
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے لارڈ لیونگ نے انسانی حقوق کے حوالے سے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ انسانی حقوق ہر جگہ اہم ہیں، خواہ وہ بھارت ہو یا کوئی اور ملک، اور برطانوی حکومت انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری جاری رکھے گی۔
لارڈ قربان حسین کی یہ نشاندہی بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کے حوالے سے ارکانِ پارلیمان، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے طویل عرصے سے ظاہر کی جانے والی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔
ان خدشات میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق، اظہارِ رائے کی آزادی، شہری آزادیوں اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال شامل ہیں۔


