ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے بڑے فیصلے کر لیے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے ملک گیر "توانائی بچت مہم” کے تحت نئے کاروباری اوقات کار کی باقاعدہ منظوری دیدی گئی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اب ملک بھر میں تمام دکانیں، کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے لازمی بند کر دیے جائیں گے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے کمرشل سیکٹر میں بجلی کی بڑی بچت ممکن ہو سکے گی۔
اس نئی پالیسی کے تحت شادی ہالز، مارکیاں اور دیگر کمرشل تقریبات کو رات 10 بجے تک جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب فوڈ سیکٹر کے لیے اوقات کار میں تھوڑی نرمی رکھی گئی ہے، جس کے تحت تمام ریسٹورنٹس، ہوٹلز اور سبزی فروشوں کو رات 11 بجے تک اپنا کاروبار بند کرنا ہوگا۔
حکومت نے عوام اور کاروباری طبقے کی سہولت کے لیے بعض اہم شعبوں کو ان پابندیوں سے مکمل مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ میڈیکل سٹورز، آئی ٹی کمپنیاں، تندور، فٹنس جمز اور فیول سٹیشنز (پٹرول پمپس) پر نئے اوقات کار کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ حسبِ معمول چوبیس گھنٹے کھلے رہ سکتے ہیں۔
کابینہ ڈویژن نے تمام صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ان نئے اوقات کار پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں۔
وفاق کے اس فیصلے کے بعد پنجاب حکومت نے بھی صوبے بھر میں توانائی بچت مہم کے تحت کاروباری مراکز کی بندش کے نئے اوقات کار نافذ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ محکمہ آئی اینڈ سی (I&C) کی جانب سے اس کا باضابطہ نوٹیفکیشن آج ہی جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
پنجاب حکومت کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے میں بھی وفاقی پالیسی کے عین مطابق دکانیں رات 9 بجے، شادی ہالز رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے بند ہوں گے۔ پنجاب میں بھی ادویات، آئی ٹی، تندور اور فیول سٹیشنز جیسے ضروری شعبوں کو پابندی سے استثنیٰ حاصل رہے گا اور نوٹیفکیشن کے بعد صوبے بھر میں اس پر فوری عمل شروع ہو جائے گا۔


