جنوبی وزیرستان: سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ایک بار پھر جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے قریب پاکستانی سول آبادی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
تازہ گولہ باری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مارٹر گولہ مقامی شہری کریم خان اور رحمت اللہ کے گھر پر آ کر گرا، جس سے گھر میں موجود افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
میڈیکل آفیسر ڈاکٹر اشفاق کے مطابق ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں تین بچے بھی شامل ہیں، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
متاثرہ شخص نور علی نے بتایا کہ گولہ اچانک ان کے گھر پر گرا، جس سے زور دار دھماکہ ہوا اور پورا گھر ہل کر رہ گیا۔ ایک اور مقامی شخص نے کہا کہ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اہل علاقہ کے مطابق سرحد پار سے ہونے والی اس قسم کی گولہ باری میں عام شہری، خصوصاً بچے، مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور سرحدی علاقوں کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات خطے میں امن کے لیے خطرہ ہیں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔


