پشاور میں 42 یونین کونسلز کے مختلف علاقوں میں 6 ہزار 260 مین ہولز پر ڈھکن موجود نہیں، جس کا انکشاف واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (WSSP) کی دستاویز میں ہوا ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی نے لوکل گورنمنٹ کو مراسلہ بھیج کر کہا ہے کہ مین ہولز کے ڈھکن لگانے کے لیے فنڈز درکار ہیں۔
دستاویز کے مطابق، مختلف اقسام کے مین ہولز لگانے کے لیے کل 5 کروڑ 79 لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔ پندرہ ٹن وزن برداشت کرنے والے 1,707 مین ہولز کھلے ہیں یا ان کے ڈھکن ٹوٹے ہوئے ہیں، جبکہ چھ ٹن وزن برداشت کرنے والے 3 ہزار 169 اور دو ٹن وزن برداشت کرنے والے 1,384 مین ہولز بھی کھلے یا خراب ڈھکنوں کے ساتھ موجود ہیں۔
ڈبلیو ایس ایس پی کے ترجمان نے بتایا کہ کھلے مین ہولز شہریوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوہے کے ڈھکن بار بار چوری ہو جاتے تھے اور سیمنٹ کے ڈھکن بھی چور سریا نکالنے کے لیے توڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اب جدید آر پی سی ڈھکن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق، ڈھکن لگانے کے لیے ٹینڈر جاری ہو چکا ہے اور کام جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2025 میں ڈبلیو ایس ایس پی نے مختلف علاقوں میں 2 ہزار 261 ڈھکن لگائے ہیں۔


