فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ایسے بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ فیصلہ آن لائن بُلنگ، ذہنی صحت کے مسائل اور کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
اس قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو نہ صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بلکہ بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود سوشل نیٹ ورکنگ فیچرز تک رسائی سے بھی روکا جائے گا ۔
اس بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ پڑے ۔ بل اب سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ایوانِ زیریں میں اس پر حتمی ووٹنگ ہوگی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک وجہ سوشل میڈیا کو قرار دیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ فرانس آسٹریلیا کی مثال پر عمل کرے، جہاں دنیا میں پہلی بار 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے فیس بک، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی گئی، جو گزشتہ دسمبر سے نافذ العمل ہے۔
صدر میکرون کا کہنا ہے کہ فرانس میں بھی یہ پابندی آئندہ تعلیمی سال کے آغاز یعنی ستمبر تک نافذ ہو جائیگی۔
مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یورپین یونین کے قوانین کے مطابق عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام نافذ کرنا ہوں گے تاکہ کم عمر بچوں کی رسائی روکی جا سکے ۔ تاہم ماہرین کیمطابق اس قسم کی پابندیوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے ۔
ہیریس انٹرایکٹو کے ایک سروے کے مطابق 73 فیصد فرانسیسی عوام 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے حق میں ہیں ۔


