رائٹرز کے مطابق برطانیہ کی حکومت بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر طور پر محفوظ بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ایک تجویز آسٹریلیا کی طرز پر کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنا بھی شامل ہے۔
حکومت نے کہا کہ وہ دنیا بھر سے شواہد کا جائزہ لے گی تاکہ مختلف تجاویز کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ ان تجاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ آیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے اور اگر ایسی پابندی نافذ کی جائے تو اسے عملی طور پر کیسے نافذ کیا جائے۔
بیان کے مطابق برطانوی وزرا آسٹریلیا کا دورہ کریں گے، جہاں گزشتہ ماہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کی گئی۔
برطانوی حکومت نے کسی مخصوص عمر کی حد کا تعین نہیں کیا، تاہم کہا گیا ہے کہ وہ “ایک خاص عمر سے کم بچوں” کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی، بہتر عمر کی تصدیق کے نظام، اور ڈیجیٹل رضامندی کی موجودہ عمر پر نظرثانی جیسے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق برطانوی حکومت پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے بنائے جانے والے نازیبا تصاویر کے ٹولز پر مکمل پابندی کے منصوبے پیش کر چکی ہے اور بچوں کو اپنے آلات پر برہنہ تصاویر بنانے، شیئر کرنے یا دیکھنے سے روکنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
برطانیہ میں حال ہی میں نافذ ہونے والے آن لائن سیفٹی ایکٹ، جو دنیا کے سخت ترین حفاظتی قوانین میں شمار ہوتا ہے، کے بعد آن لائن عمر کی تصدیق کا سامنا کرنے والے بچوں کی شرح 30 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ فحش ویب سائٹس پر بچوں کی آمد میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔


