دنیا کے لوگ آج تک انٹارکٹیکا کی برفانی تہوں کے نیچے موجود زمین کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا سیارۂ عطارد (مرکری) کی سطح کے بارے میں جانتے ہیں، تاہم اب یہ صورتحال بدلنے جا رہی ہے۔ محققین کے ایک گروپ نے ایک نیا اور منفرد طریقہ استعمال کرتے ہوئے انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے ہوئے زمینی خدوخال کی تفصیلی نقشہ سازی کر لی ہے۔
محققین کی جانب سے تیار کردہ اس نئے نقشے میں برفانی تہوں کے نیچے موجود متنوع زمینی ساخت سامنے آئی ہے، جس میں بلند پہاڑی وادیاں، ہموار نشیبی علاقے اور گہرائی میں کٹی ہوئی کھائیاں شامل ہیں۔ یہ کھائیاں دراصل تیز رفتاری سے بہنے والے برفانی دریاؤں نے زمین کو کاٹ کر بنائی ہیں۔
یہ نقشہ سیٹلائٹ ڈیٹا اور ایک خاص سائنسی طریقہ استعمال کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس میں برف کی سطح اور اس کی حرکت کا تجزیہ کر کے نیچے موجود چٹانی سطح کی ساخت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق اس طریقے سے انٹارکٹیکا کے وسیع علاقوں کی نقشہ سازی ممکن ہوئی، جہاں پہلے ڈیٹا کی کمی کے باعث درست معلومات حاصل نہیں ہو پا رہی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی نقشہ سازی میں گہری وادیاں بھی شامل ہیں، جنہیں امریکا کی گرینڈ کینین جیسی ساخت سے تشبیہ دی جا رہی ہے، جو اس خطے کی قدیم ارضی اور ٹیکٹونک تاریخ پر روشنی ڈالتی ہیں۔
یہ تحقیق سائنسی جریدے سائنس میں شائع ہوئی ہے، جس میں زیرِ برف دفن انفرادی پہاڑوں اور وادیوں کی نشاندہی کی گئی ہے
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے ہوئے اسرار کو سمجھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات جانچنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔


