امریکی خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود اپنے عملے کی غیر معمولی طور پر قبل از وقت واپسی پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عملے کے ایک رکن کو پیش آنے والے طبی مسئلے کے بعد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث جمعرات کو طے شدہ اسپیس واک بھی منسوخ کر دی گئی۔
ناسا کے مطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کے ایک رکن کو بدھ کی سہ پہر ایک طبی مسئلہ درپیش آیا. ناسا کے ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ طبی صورتحال ایک ہی خلاباز سے متعلق ہے اور اس وقت وہ مستحکم حالت میں ہے۔
ترجمان کے مطابق ناسا اس معاملے میں تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں کریو-11 مشن کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خلابازوں کی حفاظت ناسا کی اولین ترجیح ہے اور ایسے حالات کے لیے ادارہ اور اس کے شراکت دار پہلے سے تربیت اور تیاری رکھتے ہیں۔ ناسا نے مزید کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
عام طور پر خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ سے آٹھ ماہ تک قیام کرتے ہیں، جہاں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی طبی آلات اور ادویات موجود ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیس واک کو انتہائی مشکل اور خطرناک مشن تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے خلابازوں کو مہینوں تربیت دی جاتی ہے۔ اس سے قبل بھی ناسا مختلف وجوہات کی بنیاد پر اسپیس واکس منسوخ کر چکا ہے، جن میں 2024 میں خلائی لباس میں تکلیف اور 2021 میں ایک خلاباز کو اعصابی دباؤ کا مسئلہ شامل ہے۔


