ترکیہ کی پارلیمنٹ کے رکن اور پاک-ترک پارلیمانی دوستی گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے پاکستان کی قیادت کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، امریکہ کی براہِ راست شمولیت کے ساتھ، ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ اس صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں پاکستان کا کردار ایک اہم سفارتی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ علی شاہین نے پاکستان کے عوام، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کو اس تاریخی اقدام پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ کوششیں نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے حقیقی امن کا باعث بنیں گی۔
خبروں کے مطابق علی شاہین نے کہا ہے کہ بعض اوقات تاریخ میں وہ نہیں جیتتے جو جنگ لڑتے ہیں، بلکہ وہ یاد رکھے جاتے ہیں جو جنگ کو روک دیتے ہیں۔ اور اس بار یہ کردار پاکستان کے حصے میں آیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی اور عالمی سفارتی طاقت کی بدولت آج امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معمار بنا ہے، جو نہایت قیمتی بات ہے۔ یہ میرے لیے کوئی حیران کن نہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے کے ممالک، خلیج، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن کا علمبردار رہا ہے۔
علی شاہین نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اس کامیابی کا اہم سبب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں اسلام آباد ایک عالمی سطح کا امن مرکز بن سکتا ہے، جہاں جنگیں ختم ہو کر امن میں بدلیں اور جنگ بندی کے معاہدے طے پائیں۔ پاکستان کا ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مل کر اس عمل کو آگے بڑھانا ایک نئی علاقائی سیکیورٹی ساخت کی جھلک پیش کرتا ہے۔
ترک رکن پارلیمنٹ علی شاہین کا پاکستان کی سفارتی کامیابی پر شاندار خراجِ تحسین اور پاکستانی حکومت اور قوم کو مبارکباد
2 Mins Read


